انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ میدانِ جنگ بن گیا

جمعہ 29 اگست 2025 21:44

جکارتہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اگست2025ء) انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ میدانِ جنگ بن گیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں ایک شخص جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ کشیدگی اس وقت بڑھی جب پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل رائیڈ شیئرنگ ڈرائیورافان کرنیانوان جاں بحق ہو گیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پارلیمنٹ کے قریب احتجاج جاری تھا۔

مظاہرین قانون سازوں کی تنخواہوں اور پارلیمانی مراعات کے خلاف دھرنا دیے ہوئے تھے۔ اسی دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور ایک گاڑی نے افان کو کچل دیا۔ موٹرسائیکل ڈرائیورز ایسوسی ایشن کے مطابق جاں بحق نوجوان احتجاج میں شریک ہی نہیں تھا۔واقعے کے بعد طلبہ تنظیموں نے جمعہ کو پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا۔

(جاری ہے)

احتجاج کی کال کے بعد جکارتہ کے مختلف اسکولوں نے طلبہ کو جلدی چھٹی دے دی جبکہ بینکوں اور کاروباری اداروں نے اپنے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق بعض علاقوں میں فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔انڈونیشیا کی سب سے بڑی طلبہ یونین کے سربراہ معظمل احسن نے کہا ہے کہ یہ احتجاج پولیس تشدد کے خلاف ہے اور مزید طلبہ گروپ بھی اس میں شریک ہوں گے۔

انڈونیشیا کے صدر پربوو سوبیانٹو نے ڈرائیور کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ایک ویڈیو پیغام میں عوام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پولیس افسران کے "غیر متناسب اقدامات" سے مایوس ہوئے ہیں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔جکارتہ پولیس چیف نے جاں بحق ڈرائیور کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کی، جبکہ پولیس کے پروفیشنل اینڈ سیکیورٹی ڈویڑن کے سربراہ **عبدالکریم** نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ پولیس کی مسلح گاڑی کے سات اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔