
-پشاور، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے اقوام متحدہ کے وفد کی ملاقات
خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے اٴْمور پر تبادلہ خیال
جمعہ 29 اگست 2025 21:45
(جاری ہے)
وفد نے وزیر اعلیٰ سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے وفد کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع حالیہ سیلابوں اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، ان سیلابوں سے چار سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح سیلابوں سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ مزید برآں سکولز، بنیادی مراکز صحت ، روڈز انفراسٹرکچرن اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائینلاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا۔ اسی طرح مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کانمعاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا اور جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھانان کی صفائی کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں ہفتے اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسے کمسن بچے جن کا کوئی نہیں بچا، ایسے بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاؤنٹس کھولے جارہے ہیں۔ صوبائی حکومتن سیلاب متاثرین کی بحالی و ریلیف اور ادائیگیوں میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ انہوں نے خود بھی بونیر، سواتناور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں۔ اب سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر ، آبنوشی انفراسٹرکچر اور متاثرہ بنیادی مراکز صحت کی بحالی کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جن علاقوں میں پینے کے پانی کا نظام متاثر ہوا ہے وہاں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیلاب کے خطرات سے مستقل طور پر دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ انہیں آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچایا جاسکے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید واضح کیا کہ فوری اور عارضی اقدامات کے علاوہ صوبائی حکومت مستقبل میں سیلابوں سے بچنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، ہم کلاوڈ برسٹ سے متاثرہ اضلاع میں پہاڑوں پر جال لگانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں تاکہ سیلاب سے نقصانات کم سے کم ہوں، اس کے علاوہ فیزیبل مقامات پر مزید چھوٹے اور چیک ڈیمز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں جبکہ آبی گزرگاہوں میں سیلاب سے آنے والا ملبہ اور ریت کو ہٹانے کے لیے علیحدہ سے منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔وفد نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں لوگوں کی بحالی کے لیے بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔ وفد اراکین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس ہوا، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے علاوہ دیگر پسماندہ اضلاع میں بھی تعاون فراہم کریں گی
مزید اہم خبریں
-
بھارت نے دریائے جہلم میں بھی پانی چھوڑ دیا
-
موجودہ حکومت میں پانی کے ذخائرنہیں بلکہ پیسا بنانے والے لوگ ہیں
-
دریا کنارے طاقتور شخصیات کی اراضی بچانے کیلئے پوری پوری بستیاں اجاڑ دی گئیں
-
پانی جب بہاولپور سے ہوتا ہوا پنجند پر جائے گا تو خطرہ ٹلے گا‘ ڈی جی پی ڈی ایم اے
-
کاہنہ ،آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق
-
سیلاب کے متاثرہ علاقوں میں حکومت کی امدادی سرگرمیوں کا اثر کہیں بھی نظر نہیں آرہا
-
ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر کا سیلاب متاثرین کیلئے 3ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان
-
پاکستان میں سیلاب بھارت کی آبی جارحیت ہے، عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے
-
ملک میں ڈیمز کیوں نہیں بنتے؟ کیونکہ ہر ڈیم سیاست کی نذر ہوجاتا ہے
-
لاہور: راوی کنارے قائم شاہدرہ میں کئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں سیلاب سے بری طرح متاثر
-
حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے اب تک 15 ارب ڈالرز سے زائد کے نقصان کا اندازہ ہے
-
"علیم خان نے راوی کی حدود میں 300 ایکڑ زمین لی جو غیر قانونی تھی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.