Live Updates

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، کئی مقامات پر دریاؤں کے بند ٹوٹ گئے، بستیاں زیر آب

ستلج میں قصور کے مقام پر 1955ء کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا اور قصور شہرکو بچانے کا چیلنج درپیش ہے، 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت دیگر اضلاع کیلئے خطرہ ہوگا؛ پی ڈی ایم اے

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 30 اگست 2025 11:48

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، کئی مقامات پر دریاؤں کے بند ٹوٹ ..
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اگست 2025ء ) صوبہ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں کئی مقامات پر دریاؤں کے بند ٹوٹ نے سے بستیاں زیر آب آگئیں۔ تفصیلات کے مطابق دریائے راوی، چناب اور ستلج کے بپھرنے سے پنجاب کے 1769 موضع جات زیر آب آگئے، صوبے میں 15 لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جب کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جس کے باعث تلوار پوسٹ سے ملحقہ دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے گئے۔

بتایا گیا ہے کہ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک ہے جہاں ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اب بھی سیلابی خطرات موجود ہیں جب کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بہاؤ ایک لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک تک جا پہنچا، ہیڈ سدھنائی پر بھی پانی میں اضافہ ہو رہا ہے، دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی پانی کی آمد بڑھ رہی ہے۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے باعث چشتیاں کے نواحی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی یہاں سینکڑوں بستیاں زیر آب آگئیں، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہو گیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت کئی بستیاں شدید متاثر ہوئیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، ریسکیو 1122 کی ٹیمیں لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال رہی ہیں ،تاہم کئی مقامات پر فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں، گنے اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت میں بند ٹوٹنے کے سبب پانی قصور کی طرف بڑھا، دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر 1955 کے بعد تاریخ کا سب سے بڑا پانی آیا جس کی وجہ سے قصور شہرکو بچانےکا چیلنج درپیش ہے تاہم لاہور اب بالکل محفوظ ہے لیکن دریائے راوی میں طغیانی کے سبب آئندہ 24 سے 48 گھنٹے اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت لاہور سے نیچے کے اضلاع کے لیے خطرہ ہوگا، اب تک سیلاب کے باعث صوبے میں 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں تاہم بروقت ریسکیو آپریشنز کے باعث مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات