کشمیر لبریشن فرنٹ کے دو دھڑوں رؤف کشمیری اور توقیر گیلانی میں اتحاد‘ بڑے فیصلے

پیر 17 نومبر 2025 18:52

جموں (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 نومبر2025ء) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے دو دھڑوں رؤف کشمیری اور توقیر گیلانی میں اتحاد‘ بڑے فیصلے‘ یسین ملک گروپ کے چیئرمین رؤف کشمیری کو قائدِ حریت قرار دے دیا گیا صابر کشمیری ایڈوکیٹ وائس چیئرمین زونل اور مرکزی قیادت کا انتخاب جمہوری طریقے سے کیا جائے گا، کارکنان کو قیادت کے انتخاب کا موقع دیا جائے گا رؤف کشمیری اور توقیر گیلانی گروپ کے اتحاد کے بعد رؤف کشمیری، قدیرخان ، صابر کشمیری ایڈوکیٹ، جہانگیر مرزا، ناصر سرور، امان کشمیری جبیر کرامت، ذوالفقار شاہین، عبد الرحمن نے کارکنان کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر ریاست جموں کشمیر کی قومی آزادی کے لیے جیلوں میں وقت گزارنے والے رؤف کشمیری نے کہا کہ جب ہم نے ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور قومی آزادی کے لیے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تو بہت کم لوگ تھے، لیکن ہم نے اخلاص سے کام شروع کیا۔

(جاری ہے)

پھر بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر سے اشفاق مجید وانی، عبد الحمید شیخ، یسین ملک اور دیگر نوجوانوں سے میری ملاقات ہوئی۔

انہوں نے قومی آزادی کی تحریک کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ یہاں سے جدوجہدِ آزادی کا نیا باب شروع ہوا جسے شہدا نے اپنے مقدس لہو سے مزین کیا بدقسمتی سے طویل جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود ہم منزلِ آزادی سے دور ہیں۔ بلکہ بھارت و پاکستان کے ریاستِ جموں کشمیر کی مستقل تقسیم کے مشترکہ منصوبے کی وجہ سے 5 اگست 2019 کا سانحہ وقوع پذیر ہوا۔ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کو انڈین یونین میں ضم کر دیا گیا اور ظلم و بربریت کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔

یسین ملک سمیت ہزاروں کشمیری بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں انتہائی مشکل حالات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جبکہ ہندوستان کی حکومت یسین ملک کو پھانسی دلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انضمام کے لیے کوشاں ہے یعنی ریاست جموں کشمیر، جس کی آزادی کے لیے مقبول بٹ شہید سے لے کر وقار کاشر اور آج تک لاکھوں شہدا نے اپنے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کیا، اس کے وجود و شناخت کو مٹانے کی سازشیں عروج پر ہیں۔

ایسے میں آزادی پسندوں، بالخصوص جے کے ایل ایف کی تقسیم تکلیف دہ امر تھا۔ میں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر سے رہائی کے بعد جے کے ایل ایف کے اتحاد کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہ ہو سکی انہوں نے کہا کہ اس بار بھی ہماری کوشش تھی کہ جے کے ایل ایف کے تمام گروپس اکٹھے ہو جائیں اور ایک لیڈر شپ کونسل تشکیل پائے، لیکن کچھ دوستوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

ہم ڈاکٹر توقیر، راجہ مظفر عظمت اے خان، قدیر خان اور ان کے ساتھیوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اتحاد کے حوالے سے عملی اقدامات میں میرا ساتھ دیا اور ہم نے اتحاد کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ خوشی ہے کہ خوش اسلوبی سے اتحاد و ادغام کا مرحلہ طے کر لیا گیا ہے اور آج ریاستی عوام و جے کے ایل ایف کے کارکنان کو بتا رہے ہیں کہ جے کے ایل ایف اتحاد کا اصولی فیصلہ ہو گیا ہے اس سلسلے میں اپنے دستِ راست صابر کشمیری ایڈوکیٹ کے علاوہ ناصر سرور خان، ذوالفقار شاہین، جبیر کرامت، خان الیاس، خلیل حبیب، نصیر خان ، وقاص میر، رضا رفیق اور دیگر ساتھیوں کے علاوہ قدیر،خان جہانگیر مرزا، سعد انصاری، ایاز کریم، عظیم، امان کشمیری صدام حیات اور ڈاکٹر اشتیاق کا شکر گزار ہوں جنہوں نے خوش اسلوبی سے اس مرحلے کو طے کیا 1991 میں جب بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں گرفتار ہوا تو اس وقت میں جے کے ایل ایف کا سینئر وائس چیئرمین تھا۔

میری غیر موجودگی میں بابائے خودمختاری رشید حسرت نے مجھے چیئرمین کے عہدے پر نامزد کیا اور میری رہائی تک غیر موجودگی میں مجھے چیئرمین منتخب کیا جاتا رہا آج میرا ساتھی یسین ملک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہا ہے تو حسرت صاحب کے اس عمل کو زندہ کرتے ہوئے میں نے چیئرمین شپ سے دستبردار ہونے اور یسین ملک کو چیئرمین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب سے یسین ملک ہمارے چیئرمین ہوں گے، جبکہ صابر کشمیری ایڈوکیٹ تنظیم کے وائس چیئرمین ہوں گے آئندہ دنوں میں نیشنل زون کا کنونشن ہے، جس کے فوری بعد مرکزی کابینہ کا انتخاب ہونا ہے اور کارکنان جمہوری انداز میں زونل و مرکزی قیادت کا انتخاب کریں گے۔ میری باقی گروپس کے عہدیداران اور کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ اتحاد کے عمل کا حصہ بنیں اور کارکنان کو قیادت کے انتخاب کا موقع دیں اس کے علاوہ میری تمام آزادی پسندوں سے اپیل ہے کہ وقت کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنے اختلافات ترک کریں تاکہ ہم وسیع تر قومی اتحاد کی طرف بڑھ سکیں ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بھارت کی سول سوسائٹی کے کہنے پر یسین ملک نے مسلح جدوجہد ترک کر کے پرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا، لیکن ہندوستان کی موجودہ انتہا پسند حکومت نے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یسین ملک کے سابق کیسز دوبارہ کھول کر نہ صرف بھارت کے جمہوری دعوں کو داغدار کیا بلکہ امن کی راہیں مسدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس موقع پر اقوامِ عالم اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ امن و آزادی کی علامت یسین ملک کو انتہاپسندوں کی قید سے رہائی دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد ریاست جموں کشمیر کی صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر مشتمل نمائندہ انقلابی حکومت قائم کی جائے۔

دونوں اکائیوں کی مشترکہ آئین ساز اسمبلی تشکیل پائے تاکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کا آغاز کیا جا سکے۔لہذا جدوجہد کے پہلے مرحلے میں جے کے جی بی پر مشتمل انقلابی حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کا آغاز کریں گے ایک مرتبہ پھر جے کے ایل ایف کے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نوجوان ہماری امیدوں پر پورا اتریں گے اس موقع پر قدیر خان نے کہا کہ رف کشمیری جے کے ایل ایف کے بانی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ اتحاد کے لیے کوششیں کیں اور آج بھی قربانی دی ہے۔ رف کشمیری کی تنظیم و تحریک کے لیے لازوال خدمات پر انہیں قائدِ حریت کا لقب دیا گیا ہے۔ رف کشمیری تنظیم کے لیے قابلِ عزت و تکریم رہنما ہوں گے ۔