کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنیٰ دیا جائے؟

رسولﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا ، سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں، مولانا فضل الرحمان کا ردعمل

muhammad ali محمد علی منگل 13 جنوری 2026 19:08

کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنیٰ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2026ء) مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنیٰ دیا جائے؟ رسولﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا ، سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے استثنیٰ دیا جائے؟ رسول ﷺ نے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا اور حضرت عمر نے بھی اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا،ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا پیشیاں دیتا رہا اب اسے مستثنیٰ قرار دیا جارہا ہے،سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں اور ہمیں قانون سے استثنیٰ دیا جائے،آج کوئی شخص پاکستان کا وفادار ہو اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک کہ ان کا وفادار نہ ہو۔

(جاری ہے)

جبکہ منگل کے روز سرگودھا میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ہاں اب طاقت کا نظام رائج ہے اور جمہوریت محض ایک نام رہ گئی ہے۔ انتخابات ایک ڈھونگ بن چکے ہیں، جن کے نتائج چند لوگ ایک دفتر میں بیٹھ کر تیار کرتے ہیں۔ آج ملک میں جو حکومتیں قائم ہیں، ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں منتخب نہیں۔ نہ وفاق، نہ پنجاب، نہ خیبرپختونخوا، نہ سندھ اور نہ بلوچستان کی حکومت منتخب ہے، مگر اس پر کسی کو شرم یا احساس تک نہیں۔

ہم چونکہ اس صورتحال کے شکار ہیں، اس لیے جو بات کر رہے ہیں وہ ہمارا آنکھوں دیکھا حال ہے، ہم اس کے وکٹم ہیں۔ دنیا میں نظام بدل رہے ہیں، اب ہمیں سوچنا ہوگا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کو کس رخ پر لے جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کے پاس شریعتِ اسلامیہ اور قرآن و سنت کے علاوہ کوئی دوسرا نظام نہیں جو حقیقی انصاف فراہم کر سکے۔ جمہوریت کے نام پر عوام کو بہلایا گیا، حالانکہ ہمارے اکابر نے آئین میں یہ طے کروایا تھا کہ قانون سازی قرآن و سنت کے تابع ہوگی، مگر آج آئین کی بھی پاسداری نہیں ہو رہی۔

اسلامی نظریاتی کونسل 1973 سے موجود ہے، مگر آج تک اس کی سفارشات پر قانون سازی نہیں ہوئی۔ چھبیسویں ترمیم میں یہ طے ہوا تھا کہ ان سفارشات پر ایوان میں بحث ہوگی، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود ایک بھی سفارش پیش نہیں کی گئی۔ پھر ستائیسویں ترمیم کے ذریعے وہ سب کچھ ختم کر دیا گیا جو ہم نے حاصل کیا تھا۔ یہ اکثریت حقیقی نہیں، بلکہ جبری اکثریت ہے۔ اب واضح ہو چکا ہے کہ یہ جنگ نظریات کی نہیں، بلکہ اتھارٹی کی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے، سیول بالادستی اور پارلیمنٹ کی بالادستی صرف نام رہ گئے ہیں۔ اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے، قانون پاس ہوگا اسلام آباد میں۔ یہی وہ تبدیلیاں ہیں جو دنیا میں آ رہی ہیں، اور ان کے نقوش آج آپ اپنے ملک میں صاف دیکھ رہے ہیں۔