پاکستان عالمی مسابقت میں پیش رفت کر رہا ہے ،ابھی طویل سفر باقی ہے، احسن اقبال
عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے،سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا،وفاقی وزیر
بدھ 14 جنوری 2026 19:35
(جاری ہے)
احسن اقبال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی پاکستان سے کم تھی، آج وہ ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے، اسی طرح ویتنام کی برآمدات 408 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان اب بھی تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب کھڑا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین کی فی کس آمدنی ساڑھے چودہ ہزار ڈالر جبکہ پاکستان کی محض سولہ سو ڈالر کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان، کوریا، چین، ویتنام، ترکیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے امن، استحکام اور پالیسی کے تسلسل کو ترجیح دی جبکہ پاکستان میں عدم استحکام اور بار بار حکومتی تبدیلیوں نے ترقی کے عمل کو متاثر کیا، ان کے مطابق امن اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر مستحکم معاشی ترقی ممکن نہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو دنیا کی ٹاپ 10 معیشتوں میں شامل کرنا ہے اور اس کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری محض سڑکوں کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لیے برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ صرف داخلی طلب پر انحصار سے وقتی طور پر چھ فیصد جی ڈی پی نمو تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر یہ دیرپا حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قلت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی 523 لسٹڈ کمپنیوں میں سے صرف 70 کمپنیوں کی برآمدات 10 ہزار ڈالر سے تجاوز کرتی ہیں جو تشویشناک امر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات کو قومی سلامتی اور خود مختاری کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے مگر برانڈنگ اور پیکجنگ کی کمی کے باعث عالمی منڈی میں اس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ مقامی مارکیٹ کے غیر ضروری تحفظ نے بھی کمپنیوں کو عالمی مسابقت سے دور رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس، برانڈنگ اور مصنوعات کی مؤثر پروموشن ناگزیر ہے، اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ہی ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور معیشت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ درست سمت میں مربوط اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی صنعتی و دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت بھی حاصل کرے گا۔مزید قومی خبریں
-
اگر لاک ڈاؤن ختم نہ ہوا تو 14مئی کو ملک بھرمیں احتجاج کریں گے،آل پاکستان انجمن تاجران
-
وزیراعظم کی یو اے ای پر میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت
-
اپنے آئینی اورجائزحقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اتحاد اور سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا کرنا ہوگا،فیصل کنڈی
-
گورنرخیبرپختونخوا سے سابق ضلع ناظم مردان اسد علی کشمیری کی سربراہی میں نمائندہ وفد کی ملاقات
-
گورنرخیبرپختونخوا کی معروف جید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدادریس کی قاتلانہ حملہ میں شہادت پر افسوس
-
لفٹ گرنے سے 2 مزدوروں کے جاں بحق ہونے کا معاملہ، مقدمہ درج
-
خواجہ عمران نذیر کی حج تربیتی سیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت
-
پنجاب میں ریاست مخالف سوشل میڈیا مہم پ کریک ڈاؤن، 13 افراد گرفتار
-
گورنرپنجاب سے ڈی ایس پیز کی ملاقات، شہداء کو خراج عقیدت
-
آپریشن بنیان مرصوص دنیا کی افواج کے لیے اسٹیڈی کیس بن چکا ہے،وزیراطلاعات پنجاب
-
اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری
-
مئی 2025ء کو بھارت نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی‘ عظمیٰ بخاری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.