وادی تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی، خیبر پختونخوا حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی داستان

جمعرات 29 جنوری 2026 19:50

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جنوری2026ء) وادی تیراہ کی برف پوش چوٹیوں کو سردی کی شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ہزاروں خاندانوں نے ایک بار پھر اپنے بچوں، بزرگوں اور ضروری سامان کے ساتھ میدانی علاقوں کی جانب وہ تکلیف دہ سفر شروع کر دیا ہے جو حالیہ شدید برف باری اور ٹھٹھرتی سردی سے بچنے کے لیے ان کا مقدر بن چکا ہے۔

ضلع خیبر اور اورکزئی کے قبائلی علاقوں پر مشتمل تیراہ کی وادیوں میدان، باغ، راجگل اور دیگر ملحقہ علاقوں کے غریب قبائلیوں کےلیے یہ موسمی ہجرت کوئی نیا واقعہ نہیں ہے تاہم اس بار ان کی مشکلات میں اضافے کی وجہ صرف شدید برف باری نہیں بلکہ خیبر پختونخوا حکومت کی بروقت امداد کی عدم موجودگی بھی ہے۔ پاک افغان سرحد کے قریب کوہِ سفید کے دشوار گزار سلسلوں میں گھیری وادیِ تیراہ سخت سردیوں میں تقریباً ناقابلِ رسائی ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ کئی برسوں سے یہاں کے رہائشی قبل از وقت اپنی مرضی سے باڑہ، پشاور، ہنگو اور قریبی محفوظ و گرم علاقوں کی طرف منتقل ہونا سیکھ چکے ہیں۔ رواں ماہ بھی جب آفریدی قبائل کی اکثریت والے ان علاقوں میں برف کی سفید چادر بچھی تو لوگوں نے پناہ اور ریلیف کی امید میں تحصیل باڑہ اور پشاور کا رخ کیا لیکن بہت سے خاندان یخ بستہ سڑکوں اور عارضی کیمپوں میں بے یار و مددگار پھنس گئے اور خون جما دینے والے درجہ حرارت میں امداد کا انتظار کرنے لگے۔

تیراہ کے مکینوں اور اپوزیشن لیڈروں کے غم و غصے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ نقل مکانی اچانک یا غیر متوقع نہیں تھی بلکہ صوبائی حکومت کی ’’سست روی‘‘ نے صورتحال کو مزید ابتر بنا دیا۔ پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق 10 جنوری سے اب تک تقریباً 11,400 خاندان رجسٹر ہو چکے ہیں جن میں سے 10ہزار سے زائد باڑہ اور پشاور منتقل ہو چکے ہیں جبکہ صرف گزشتہ روز باڑہ کے پانچ مراکز میں 1719 خاندانوں کو رجسٹر کیا گیا. باڑہ کے رہائشی جان آفریدی جیسے غریب لوگوں کے لیے یہ ہجرت محض بقا کی جنگ ہے۔

انہوں نے ایک ریلیف کیمپ کے پاس کھڑے ہو کر بتایا کہ میرے رشتہ داروں نے تصدیق کی ہے کہ وہ برف باری کے بعد اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں لیکن اب وہ صوبائی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ انہیں جلد امداد ملے گی یا نہیں۔ بہت سے خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تیراہ کے مہاجرین کے لیے 4 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کے اعلان کے باوجود انہیں ابھی تک کوئی خاطر خواہ مالی امداد نہیں ملی۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ خان نے بھی ان فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کی شفافیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو نقد امداد نہ ملنا حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر عباد نے یہ بھی واضح کیا کہ وفاقی حکومت کے مطابق تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ یہ محض شدید موسم کی وجہ سے ہونے والی معمول کی نقل مکانی ہے جسے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بدھ کے روز تحصیل باڑہ کا دورہ کیا اور متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا۔ یہ سامان گورنر پنجاب کی ہدایت پر ہلال احمر پنجاب کی جانب سے بھیجا گیا تھا جس میں آٹا، چاول، چینی، گھی اور صاف پانی شامل تھا. متاثرین نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی بروقت امداد کو سراہا۔ہلال احمر نے یہاں پر میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا ہے جہاں پر متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متاثرین کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت ان کی باعزت طریقے سے واپسی تک تیراہ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ سردی کے اس موسم میں ریلیف کیمپوں میں رہائش پذیر خاندان صرف روٹی اور ٹینٹ کے منتظر نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ایسے نظام کے خواہاں ہیں جو ان کی پکار سنے اور اس حوالے سے عملی اقدامات کرے۔