اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 مئی 2026ء) جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق برلن میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے پوٹن کے بیانات کو نوٹ کیا ہے، لیکن یہ محض ان نمائشی پیشکشوں کا حصہ ہیں جو روس کی ہائبرڈ حکمت عملی کا پرانا طریقہ کار رہا ہے۔
حکام کے مطابق، ''جرمنی اور یورپ اس طرح کی باتوں سے خود کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے۔
ذرائع نے مزید واضح کیا کہ روس نے جنگ بندی کے لیے اپنی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی، اس لیے مذاکرات کی یہ آپشن قابلِ بھروسہ نہیں لگتی۔ ان کا کہنا تھا، ''اگر روس اپنی ساکھ ثابت کرنا چاہتا ہے، تو اسے سب سے پہلے جنگ بندی میں توسیع کرنی چاہیے۔‘‘
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں دونوں فریقین پیر، 11 مئی تک جنگ بندی پر رضامند ہوئے تھے۔
(جاری ہے)
’یورپ کو مذاکرات کی میز پر ہونا چاہیے‘
جرمن
حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ یورپ اور امریکہ کے پاس مذاکرات کے لیے بہترین ٹیمیں موجود ہیں۔ یوکرین اور 'E3' گروپ (جس میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ شامل ہیں) ہمیشہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ''یورپ کا میز پر ہونا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے حالات سازگار ہونے چاہیں۔‘‘یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب پوٹن نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن نے ثالثی کی کوشش کی ہے، لیکن وہ یورپی سطح پر سابق جرمن رہنما گیرہارڈ شرؤڈر کو ثالث کے طور پر دیکھنا پسند کریں گے۔ پوٹن نے واضح طور پر کہا، ''میں تمام یورپی سیاست دانوں میں سے، شرؤڈر کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دوں گا۔‘‘
ماسکو
میں یومِ فتح کی تقریبات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اب یہ جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، لیکن وہ ابھی تک اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سابق جرمن چانسلر شرؤڈر اور تنازعات
دوسری جانب، گیرہارڈ شرؤڈر کے دفتر نے اس معاملے پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ 82 سالہ شرؤڈر کو پوٹن کے ساتھ قریبی دوستی اور روسی توانائی کمپنیوں میں ان کے کردار کی وجہ سے طویل عرصے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔
اگرچہ شرؤڈر نے رواں سال کے آغاز میں ایک مضمون میں روسی حملے کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا تھا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا، ''میں روس کو ابدی دشمن بنا کر پیش کرنے کے خلاف ہوں۔‘‘ انہوں نے روس سے توانائی کی درآمدات دوبارہ شروع کرنے کی بھی حمایت کی تھی۔
اپنی پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی تو ظاہر کی، لیکن ایک شرط بھی رکھی۔
ادارت: کشور مصطفیٰ