اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 مئی 2026ء) گزشتہ دہائی میں فٹبال سے لے کر اسنو بورڈنگ تک میں سعودی عرب کی بھاری سرمایہ کاری کھیلوں کی دنیا کا ایک نمایاں موضوع رہا ہے۔
تیل
سے مالا مال اس خلیجی ریاست نے حالیہ برسوں میں معروف فٹبالروں کو غیر معمولی تنخواہیں پیش کیں، فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے حقوق حاصل کیے، ایک پریمیئر لیگ کلب خریدا، گولف کی دنیا کو منقسم کر دیا، اور اسنوکر، خواتین ٹینس سے لے کر ریسلنگ تک ہر طرح کے ایونٹس کی میزبانی کی کوشش کی۔اسپورٹس پر اتنے بڑے پیمانے پر اخراجات ملک کے نظرثانی شدہ وژن 2030 کا حصہ تھے، جو معیشت کو تیل پر انحصار سے ہٹا کر متنوع بنانے کی حکمت عملی ہے، اور اسے عام طور پر ''اسپورٹس واشنگ‘‘ کی ایک شکل بھی سمجھا جاتا ہے، جس میں کوئی ملک کھیلوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
(جاری ہے)
سعودی عرب کن کھیلوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے؟
سب سے نمایاں معاملہ گزشتہ ہفتے گولف میں دیکھنے میں آیا۔
ایل آئی وی گولف کو بند کر دیا گیا۔ جو پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کے زیر انتظام تھی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اس ایونٹ کے لیے طویل مدت تک درکار ''بھاری سرمایہ کاری‘‘ اب اس فنڈ کی موجودہ سرمایہ کاری حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ 2021 میں قائم ہونے والی ایل آئی وی روایتی پی جی اے ٹور سے الگ ہو کر بنائی گئی تھی۔ اور بڑے معاوضے دے کر کئی بڑے کھلاڑیوں کو اس کی طرف راغب کیا گیا تھا۔ اب اس کے خاتمے کے بعد ان کھلاڑیوں کی دوبارہ واپسی ایک متنازعہ معاملہ بن گئی ہے۔فٹبال
میں پی آئی ایف نے اپریل میں اپنے 70 فیصد حصص سعودی پرولیگ الہلال کو فروخت کر دیے، اور اسے زیادہ ''منافع کمانےاور سرمائے کو ملکی معیشت میں دوبارہ لگانے کی حکمت عملی‘‘ قرار دیا گیا۔ پی آئی ایف نے تاہم انگلینڈ کے نیو کاسل یونائیٹڈ کلب کو فروخت کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا، اور ایسا لگتا ہے کہ 2034 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے پیش نظر سعودی عرب فٹبال میں کچھ سرمایہ کاری جاری رکھنا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ کئی اہم ایونٹس جو سعودی عرب میں منعقد ہونے والے تھے، اب نہیں ہوں گے۔ اسنوکر کا سعودی عرب ماسٹرز ٹورنامنٹ اب نہیں ہو گا۔ دس سال کے معاہدے کے باوجود اسے دو سال کے اندر ہی گزشتہ ہفتے منسوخ کر دیا گیا۔ خواتین ٹینس کی تنظیم ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) کی فنڈنگ بھی واپس لے لی گئی اور اس کے سیزن کا اختتامی ایونٹ بھی ختم کر دیا گیا۔
مزید برآں سعودی عرب نے 2035 کے رگبی ورلڈ کپ کی میزبانی اور ایشیائی سرمائی کھیل 2029 کے منصوبے بھی ترک کر دیے ہیں۔سعودی عرب کھیلوں میں سرمایہ کاری کیوں روک رہا ہے؟
اس کی وجوہات بظاہر معاشی اور سیاسی دونوں ہیں۔ گزشتہ ہفتے یاسر الرمیان، جو پی آئی ایف کے گورنر ہیں، نے کہا کہ یہ فنڈ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات، اور کھیلوں میں سرمایہ کاری سے کم منافع کے باعث اپنی سرمایہ کاری اور معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے اور ترجیحات پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔
یاسر الرمیان نیوکاسل یونائیٹڈ کے چیئرمین بھی ہیں، ساتھ ہی سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی سعودی ارامکو اور بڑی کان کن کمپنی معدن کے بھی سربراہ ہیں۔ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔
اس قسم کے باہم جڑے ہوئے عہدے اور تعلقات حکومت کو اپنے کھیلوں سے متعلق اثاثوں پر کنٹرول برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ ارامکو کئی نمایاں کھیلوں کے مقابلوں کی اسپانسر بھی ہے۔
اسی وسیع اور متنوع سرمایہ کاری کی وجہ سے سعودی عرب اور کھیلوں کے درمیان تعلق کو مکمل طور پر الگ کرنا خاصا پیچیدہ معاملہ ہے۔سعودی عرب کی کھیلوں میں سرمایہ کاری متنازعہ کیوں رہی؟
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور دیگر ادارے اسے واضح طور پر ''اسپورٹس واشنگ‘‘ کی مثال قرار دیتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اعلیٰ سطح کے کھیلوں اور تفریحی ایونٹس میں پی آئی ایف کی سرمایہ کاری کو ملک کے خراب انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بہتر ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ کھیلوں کی دنیا میں کچھ مخالفت ضرور سامنے آئی، لیکن سعودی سرمایہ زیادہ تر کھیلوں میں نسبتاً آسانی سے داخل ہو گیا ہے۔ مالی مشکلات کا شکار کئی کھیل سعودی عرب کی جانب سے بڑی مالی پیشکش کو ٹھکرانے کے قابل نہیں رہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال نے کئی کھیلوں کو ایک غیر یقینی پوزیشن میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اگر سعودی سرمایہ کاری اچانک رک جائے، جیسا کہ اب کچھ حد تک ہو رہا ہے، تو ان کھیلوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادارت: مقبول ملک