Live Updates

کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ہرگز یہ ملطلب نہیں کہ ایران سرنڈر کر رہا ہے، ایرانی صدر

مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے حقوق سے دستبردار ہو رہا ہے، ایران سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے لیکن کسی بھی طاقت کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا؛ اجلاس سے خطاب

Sajid Ali ساجد علی اتوار 10 مئی 2026 16:09

کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ہرگز یہ ملطلب نہیں کہ ایران سرنڈر کر رہا ہے، ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2026ء) ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل ضرور چاہتا ہے لیکن اسے تہران کی کمزوری یا ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہ دیکھا جائے، ایران اپنے قومی مفادات اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے ہونے والے نقصانات کی بحالی کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے ملک کی خارجہ پالیسی اور دفاعی عزم کی وضاحت کی، انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے لیکن کسی بھی طاقت کو اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

صدر پیزشکیان نے واضح کیا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے حقوق سے دستبردار ہو رہا ہے یا ہتھیار ڈال رہا ہے، ایران اپنے عوامی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہے اور اس مؤقف میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوگی، ایرانی ثقافت میں جہاں رواداری اور اخلاق کی جڑیں گہری ہیں، وہیں اس سرزمین کی تاریخ ظلم اور جبر کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے، یہ شناخت ایران کے نام کی سربلندی کے لیے ہمیشہ قائم رہے گی۔

(جاری ہے)

ایرانی صدر نے ملک کا امن پسند ایجنڈا بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کا حامی نہیں ہے اور مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے، عالمی قوانین اور انسانی اصولوں کے تحت معصوم بچوں، عام شہریوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کا کیا جواز ہے؟ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایران پر اپنی مرضی مسلط کر کے اسے جھکا لے گا، تو یہ اس کی خام خیالی اور ناکامی ہوگی۔                                           
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات