دائود چورنگی ملیر کے قریب کے ٹی سی بس ڈپو میں واقع پچاس سالہ قدیم جامع مسجد مفتی محمود کی تعمیرِ نو کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا

جمعہ 13 مارچ 2026 20:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 13 مارچ2026ء) دائود چورنگی ملیر کے قریب کے ٹی سی بس ڈپو میں واقع پچاس سالہ قدیم جامع مسجد مفتی محمود کی تعمیرِ نو کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ جمعیت علمائے اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے مسجد کی تعمیرِ نو کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ مسجد کو تقریبا سات ماہ قبل 22 اگست 2025 کو بی آر ٹی منصوبے کے تحت مسمار کردیا گیا تھا، جس پر مقامی سطح پر جمعیت علمائے اسلام داود چورنگی ملیر ٹاون کی جانب سے احتجاجی تحریک شروع کی گئی تھی۔

بعد ازاں جمعیت علمائے اسلام سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو کی ہدایت پر صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا عبدالکریم عابد، مولانا سید حماد اللہ شاہ، مولانا محمد غیاث اور مولانا سمیع الحق سواتی شامل تھے۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے مختلف اوقات میں کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر اور بی آر ٹی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل مذاکرات کیے، جن کے نتیجے میں اس امر پر اتفاق ہوگیا کہ شہید جامع مسجد مفتی محمود کو اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جہاں اسے مسمار کیا گیا تھا۔

اسی فیصلے کی روشنی میں جمعیت علمائے اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے مسجد کی تعمیرِ نو کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاری محمد عثمان نے کہا کہ مساجد و مدارس کی آزادی و حرمت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام مساجد و مدارس کی پشت بان ہے۔ مساجد و مدارس کے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔

مدارس و مساجد معاشرے کیلئے آکسیجن کا کام کررہے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں ملیر ٹاون کے امیر مولانا مختار احمد، ابراہیم حیدری ٹاون کے امیر مولانا نورالرحیم رحمانی، یوسی داود چورنگی کے امیر مفتی سمیع الحق قاسمی، مولانا محمد طارق شامزئی، مہتمم جامعہ رحیمیہ مولانا گل رحیم، قاری اسماعیل چترالی سمیت علما کرام، ذمہ داران اور معززینِ علاقہ کی بڑی تعداد شریک تھی۔ رہنماوں نے اس پیش رفت کو افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کے خوشگوار حل کی مثال قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مسجد کی تعمیر جلد پایہ تکمیل تک پہنچے گی۔