پہلے سے باعزت بری کیس میں نیا چالان، عمران خان سے متعلق مقدمے میں پولیس نے انوکھا کارنامہ کرڈالا

یہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کسی ملزم کو بری کیے جانے کے بعد اسی مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کر دیا گیا ہے؛ سابق وزیراعظم کے وکیل کا مؤقف

Sajid Ali ساجد علی منگل 31 مارچ 2026 13:58

پہلے سے باعزت بری کیس میں نیا چالان، عمران خان سے متعلق مقدمے میں پولیس ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 31 مارچ 2026ء ) سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمے میں پولیس نے انوکھا کارنامہ کرڈالا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف پہلے سے باعزت بری ہونے والے مقدمے میں نیا چالان پیش کر دیا گیا، عدالت نے پہلے فیصلے کی بنیاد پر اس کیس کو داخل دفتر کرنے کا حکم دے دیا۔

بتایا گیا ہے کہ اس کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شہزاد خان نے کی جہاں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے وکلا سردار مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے دوران سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ’یہ عدالتی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کسی ملزم کو بری کیے جانے کے بعد اسی مقدمے میں دوبارہ چالان پیش کر دیا گیا ہے‘۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی کچہری میں عدالت پہلے ہی بانی پی ٹی آئی کو بری کر چکی ہے‘، اس پر جج شہزاد خان نے ہدایت دی کہ ’پہلے والا عدالتی حکم پیش کیا جائے تاکہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکے‘ جس پر بانی پی ٹی آئی کے وکلاء کی طرف سے بریت کا آرڈر عدالت میں پیش کیا گیا، جس پر عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا اور نئے چالان والے کیس کو داخل دفتر کر دیا۔

ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پر سماعت ہوئی جہاں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف یہ کیس سن رہے ہیں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے، سماعت میں نیب کی نمائندگی سپیشل پراسیکیوٹر جاوید اشرف اور رافع مقصود نے کی، اس دوران عمران کان کی بہنیں علیمہ خانم ، عظمیٰ خان اور نورین خانم بھی کمرہ عدالت میں موجود رہیں۔

سماعت کے آغاز پر نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’آج تو سزا معطلی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں ہیں‘، سلمان صفدر نے جواب دیا کہ ’ساری باتیں انہی کی تو نہیں مانی جائیں گی، جنوری 2025ء میں سزا ہوئی، سزا کو 14 ماہ ہو چکے ہیں، عمران خان اور بشری بی بی کو جب سزا سنائی گئی، بشریٰ بی بی ٹرائل کے دوران ضمانت پر تھیں اور بشری بی بی کو 17 جنوری 2025ء کو سزائیں ہوئیں، دس ماہ ہو چکے نوٹس ہوئے اس دوران پراسیکوشن نے التوا مانگا ہے ہم ہمیشہ موجود ہوتے رہے ہیں‘۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ’ان کا کہنا ہے دس منٹ کا کیا ہے تو اپیل پر دلائل کیوں نہیں دے رہے‘، سلمان صفدر نے جواب دیا کہ ’مجھے تو ابھی اپیلوں پر دلائل دینے کے لیے کلائنٹ سے ہدایات ہی نہیں ہیں‘، اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ ’آئندہ ہفتے کے لیے اپیل مقرر کر دیتے ہیں؟‘، سلمان صفدر نے کہا کہ ’میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا‘، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سلمان صفدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ملاقات کا وقت لے لیں میں آپ کو آئندہ ہفتے کی تاریخ دے دیتا ہوں‘۔