سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کو خراجِ عقیدت، 14ویں برسی منائی گئی

منگل 7 اپریل 2026 23:35

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اپریل2026ء) سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی 14ویں برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی ، جہاں پوری قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔سیاچن گلیشیئر، جو دنیا کا بلند ترین میدانِ جنگ سمجھا جاتا ہے، پر خدمات انجام دینا نہ صرف دشمن کا مقابلہ بلکہ شدید موسمی حالات سے نبرد آزما ہونے کے مترادف ہے۔

اسی محاذ پر 7 اپریل 2012 کو ایک دلخراش حادثہ پیش آیا، جسے سانحہ گیاری سیکٹر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔اس سانحے میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈکوارٹر مکمل طور پر دب گیا، جس کے نتیجے میں 129 افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

(جاری ہے)

یہ سانحہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت المناک تھا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو عالمی سطح پر انتہائی مشکل قرار دیا گیا۔

تاہم پاک فوج کے انجینئرز کور نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مشکل ترین ریسکیو آپریشن کو مکمل کیا۔ پاک فوج کے جوانوں کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔شہداء کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے، جہاں ہر سال ان عظیم قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ آج کے دن ملک بھر میں شہداء گیاری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی قربانیوں کو قومی تاریخ کا لازوال باب قرار دیا جا رہا ہے۔قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وطن کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ان بہادر سپاہیوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔