مقبوضہ جموں وکشمیر،بھارتی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے 58سکول اپنی تحویل میں لے لیے

سوپور سے مزید تین افراد گرفتار،حریت کانفرنس کی طرف سے بھارتی جبر واستبداد کی مذمت

ہفتہ 18 اپریل 2026 17:53

سری نگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے فلاح عام ٹرسٹ ادارے کے زیر انتظام چلنے والے کم از کم 58 اسکولوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے 58 اسکولوں کو قبضے میں لینے کے حوالے سے ایک حکمنامہ جاری کیا۔

مقبوضہ علاقے کے محکمہ سکول ایجوکیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ یہ 58سکول جماعت ا سلامی یا اس سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ سے بالواسطہ یا بالواسطہ طور پر منسلک پائے گئے۔ تحویل میں لیے گئے تمام سکولوں میں سرکاری عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر فروری 2019میں پابندی عائد کر دی تھی۔

(جاری ہے)

تنظیم کے امیر ڈاکٹر حمید فیاض اور ترجمان ایڈووکیٹ زاہد سمیت اسکے کئی رہنما گزشتہ کئی برس سے جیلوں میں بند ہیں۔

بھارتی پولیس نے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں مزید تین افراد گرفتار کر لیے ہیں جس سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد بڑھ کو 16ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کو رواں ہفتے کے شروع میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول سوپور میں ایک طالبہ کی بے حرمتی کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ،کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی گرفتاری اور بھارتی انتظامیہ کی طرف سے جماعت اسلامی کے سکولوں کو تحویل میں لینے کی شدید مذمت کی ہے۔

حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے محافظوں کو بھی گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال رہا ہے۔انہوں نے معروف مزاحمتی رہنما ایس حمید وانی شہید کو انکے یوم شہادت پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہیں بھارتی فوجیوں نے 1998 میں آج ہی کے دن سری نگر میں شہید کیا تھا۔

بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادار ے ’’این آئی اے‘‘ نے غیر قانونی طور پر نظر بند کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کیخلاف 1996کے ایک اور پرانے جھوٹے مقدمے میں کارروائی شروع کردی ہے ۔ انہیں مقدمے کے سلسلے میں جمعہ کی شام دلی کے پٹیالہ ہائوس کورٹ میں پیش کیاگیا جس نے انکا تین روز کا ٹرانزٹ ریمانڈ دیا ۔ انہیںپیرکے روز جموں کی ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا۔بھارتی سپریم کورٹ نے شبیر احمد شاہ کو 12مارچ کو ایک جھوٹے مقدمے میں ضمانت دی تھی تاہم انہیں رہا کرنے کے بجائے ایک اور مقدمے میں ملوث کیا گیا۔