سچائی بتانے والے صحافی جنگوں کا پہلا نشانہ، یو این چیف

یو این پیر 4 مئی 2026 02:15

سچائی بتانے والے صحافی جنگوں کا پہلا نشانہ، یو این چیف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 04 مئی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافیوں کو سنسرشپ، نگرانی، قانونی ہراسانی اور موت جیسے خطرات کا سامنا ہے جنہیں سچائی سامنے لانے پر دانستہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے آزادی صحافت کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عموماً سمجھاجاتا ہے جنگ میں پہلا قتل سچائی کا ہوتا ہے۔

لیکن اکثر سب سے پہلے وہ صحافی نشانہ بنتے ہیں جو سچائی سامنے لانے کے لیے اپنا سب کچھ خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ انہیں نہ صرف جنگوں میں خطرات لاحق ہیں بلکہ ہر اس جگہ ہدف بنائے جانے کا خطرہ ہے جہاں بااختیار لوگوں کو احتساب کا خوف ہوتا ہے۔

حالیہ برسوں کے دوران جنگ زدہ علاقوں میں مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے 85 فیصد جرائم کی نہ تو تفتیش ہوتی ہے اور نہ ہی ان پر کوئی سزا دی جاتی ہے۔ یہ عدم احتساب کی ناقابل قبول حد ہے۔

آزادی صحافت پر غیرمعمولی دباؤ

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ معاشی دباؤ، نئی ٹیکنالوجی اور منظم سازشیں بھی ذرائع ابلاغ کی آزادی پر غیر معمولی دباؤ ڈال رہی ہیں۔ جب مستند معلومات تک رسائی کمزور پڑتی ہے تو بداعتمادی جڑ پکڑ لیتی ہے۔

جب عوامی مباحثہ بگڑ جاتا ہے تو سماجی ہم آہنگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ جب صحافت کو کمزور کیا جاتا ہے، تو بحرانوں کو روکنا اور انہیں حل کرنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ تمام آزادیاں ذرائع ابلاغ کی آزادی پر منحصر ہیں۔ اس کے بغیر انسانی حقوق، پائیدار ترقی اور امن کا وجود ممکن نہیں۔ آزادی صحافت کے اس عالمی دن پر صحافیوں کے حقوق کو تحفظ دینے کا عہد کرنا ہو گا اور ایک ایسی دنیا تعمیر کرنا ہو گی جہاں سچ اور سچ بتانے والے محفوظ ہوں۔