خود مختاری کے دعوے کے بعد بھارت بنگلہ دیش تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

منگل 5 مئی 2026 15:33

ڈھاکہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) بنگلہ دیش کی نئی حکومت کی جانب سے ملکی خودمختاری پر زور اور بھارتی اثر و رسوخ کو مسترد کرنے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے خطے میں بھارت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بنگلہ دیش کی نومنتخب حکومت نے بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اس پیشرفت نے بھارت کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بھارت کے اقدامات کو ایک ایسے ہمسایہ ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو بنگلہ دیش کی خودمختاری کو متاثر کررہا ہے۔ حوالگی کے معاہدے کے باوجودمفرور سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس نہ بھیجنا بھی بھارت کی طرف سے اپنی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری نہ کرنے پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

(جاری ہے)

اطلاعات کے مطابق، بنگلہ دیش میں نوجوانوں نے سیاسی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے مبینہ بھارتی اثر و رسوخ کو مسترد کیا ہے۔ نئی دلی میں شیخ حسینہ کے حالیہ خطاب کے بعد بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں بھارتی مداخلت کے الزامات میں مزید شدت آئی، جس پر سخت ردعمل ظاہر کیاگیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈھاکہ کا زیادہ خودمختار اور جارحانہ موقف اس کی خارجہ پالیسی میں نئی سمت کی نشاندہی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گہرے تنائو کو ظاہر کرتا ہے۔