مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی فتح کے بعد بدامنی، چار افراد ہلاک

DW ڈی ڈبلیو بدھ 6 مئی 2026 17:00

مغربی بنگال میں بی جے پی کی انتخابی فتح کے بعد بدامنی، چار افراد ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 مئی 2026ء) ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ سے بدھ چھ مئی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق پولیس اور دونوں حریف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بدامنی میں چار کارکنوں کے مارے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

مشرقی بھارتی ریاست مغربی بنگال کی آبادی 100 ملین سے زائد ہے اور وہاں ریاستی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت بی جے پی نے کُل 294 نشستوں میں سے 206 پر کامیابی حاصل کر لی تھی۔

ان انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان پیر کے روز کیا گیا تھا۔

مودی کی پارٹی کی بہت بڑی کامیابی

ان انتخابات اور ان کے نتائج کی خاص بات یہ تھی کہ اس بھارتی ریاست میں 2011 سے خاتون وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی حکومت تھی، جو برسوں سے ہندو قوم پسند وزیر اعظم مودی کی بہت بڑی ناقد ہیں۔

(جاری ہے)

مودی حکومت کی سبکی، ترمیم شدہ خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں نامنظور

ممتا بینرجی کا تعلق آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نامی پارٹی سے ہے اور بی جے پی کی کئی برسوں سے کوشش تھی کہ کسی طرح کولکتہ میں ممتا بینر جی کی حکومت کو اقتدار سے باہر کر دیا جائے۔

اب جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یہ اسٹیٹ الیکشن جیت چکی ہے، ممتا بینرجی نے ان انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔ اس الیکشن میں وہ پارلیمان میں اپنی سیٹ سے بھی محروم ہو گئی ہیں۔

بھارتی ریاست مغربی بنگال کے انتخابات میں مچھلی اہم سیاسی موضوع

مغربی بنگال میں اکثریتی آبادی کی زبان بنگالی ہے اور کئی تجزیہ کاروں کے مطابق وہاں طویل عرصے بعد ہندو قوم پسند بی جے ہی کا الیکشن میں قطعی اکثریت حاصل کر لینا نریندر مودی کی وہ سب سے بڑی کامیابی ہے، جو انہیں 2014ء میں پہلی بار ملکی سربراہ حکومت بننے کے بعد سے اب تک حاصل ہوئی ہے۔

اس سیاسی کامیابی کے ساتھ مودی کی جماعت کو اب صرف زیادہ تر ہندی بولنے والے وسطی اور شمالی بھارت میں ہی غلبہ حاصل نہیں بلکہ اسے ملنے والی علاقائی کامیابیاں بھی اس کی طاقت میں اضافے کا باعث بن چکی ہیں۔ اب بھارت کی کُل 28 میں سے 20 ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کنٹرول ہے۔

خونریز بدامنی کب شروع ہوئی؟

ویسٹ بنگال پولیس کے مطابق اس ریاست میں بدامنی اور پرتشدد واقعات اس وقت شروع ہوئے جب بی جے پی اپنی کامیابی کا جشن منا رہی تھی اور ممتا بینرجی کی پارٹی کے کارکن اپنی جماعت کی شکست پر حیران بھی تھے اور مشتعل بھی۔

’میں ضرور جاؤں گا‘: پاکستان میں مقیم بنگالیوں کا خواب سچ ہونے کو ہے؟

پولیس نے بتایا کہ حریف سیاسی کارکنوں کے مابین جھڑپیں پیر کی رات بی جے پی کی کامیابی کے جشن کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھیں، جو جزوی طور پر کل منگل کے روز بھی جاری رہیں۔ اس دوران کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔

اس ریاست میں بی جے پی کے رہنما سمیک بھٹاچاریہ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ مرنے والوں میں ان کی پارٹی کے دو کارکن بھی شامل ہیں۔

بھارت: غیرملکی کے نام پر ملک بدری، نشانہ بنگالی بولنے والے مسلمان

اسی طرح الیکشن ہار جانے والی ممتا بینرجی کی پارٹی ٹی ایم سی کی طرف سے کہا گیا کہ اس بدامنی میں اس کے دو کارکنوں کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ساتھ ہی ٹی ایم سی کے ترجمان نریندر ناتھ چکربورتی نے یہ بھی کہا کہ سیاسی مخالفین کی طرف سے اس پارٹی کے ریاست کے مختلف حصوں میں قائم متعدد دفاتر پر حملے بھی کیے گئے۔

ادارت: شکور رحیم