کیلاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم‘علاقہ صوبائی سیاحتی ماسٹر پلان میں شامل

بدھ 6 مئی 2026 23:01

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 مئی2026ء) کیلاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی جا چکی ہے اور اس خطے کو صوبائی سیاحتی ماسٹر پلان میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سعودی عرب اور کویت کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، کمیٹی اجلاس میں چترال میں سیاحت کے فروغ، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی پروگرامز ملک کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی اجلاس میں سینیٹر محمد طلحہ محمود، سینیٹر روبینہ قائم خانی، سینیٹر ایمل ولی خان اور سینیٹر سید کاظم علی شاہ اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے اٹھائے گئے چترال میں سیاحت کے فروغ سے متعلق امور کا جائزہ لیا اور پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے حکام سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔

حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چترال خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا سیاحتی علاقہ ہے اور اسے ایڈونچر اور ثقافتی سیاحت کے ایک اہم مرکز کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس خطے میں ریشون، گرم چشمہ، لاسپور اور کیلاش جیسی اہم وادیاں شامل ہیں، جبکہ شندور پاس، کیلاش ویلیز اور چترال گول نیشنل پارک نمایاں سیاحتی مقامات ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا تھا اور 2022 میں پی ٹی ڈی سی کے موٹلز بھی متعلقہ صوبوں کے حوالے کر دیے گئے۔

مجموعی طور پر 19 سیاحتی جائیدادیں خیبر پختونخوا کو منتقل کی گئیں جن میں چترال کے پانچ اہم موٹلز شامل ہیں۔ ان پانچ جائیدادوں کو اب اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے تحت گرین ٹورازم کے سپرد کیا گیا ہے، جو وزارتِ دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے، جبکہ آمدنی کی تقسیم کے معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کو 10 فیصد منافع حاصل ہوگا۔حکام کے مطابق سالانہ تقریباً 95 لاکھ مقامی سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں، جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2022 میں 1500 سے بڑھ کر 2025 میں 2700 تک پہنچ گئی ہے۔

کیلاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی جا چکی ہے اور اس خطے کو صوبائی سیاحتی ماسٹر پلان میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ سعودی عرب اور کویت کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات جاری ہیں جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی فعالیت، ''وزٹ چترال ویلی'' ویب سائٹ کی تیاری، بروشرز اور نقشہ جات کی اشاعت، اور یونیسکو کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

''ذمہ دار سیاحت'' مہم بھی شروع کی گئی ہے تاکہ مقامی ثقافت کے احترام اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے، خصوصاً کیلاش کے علاقے میں۔تاہم، سیکیورٹی خدشات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں، کیونکہ غیر ملکی سیاحوں کو چترال جانے سے قبل این او سی حاصل کرنا ضروری ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحتی انفراسٹرکچر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بنیادی سہولیات کی کمی سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید سیاحت کے تقاضوں کے مطابق انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی ناگزیر ہے، مگر یہ سہولتیں علاقے میں بڑی حد تک موجود نہیں۔انہوں نے کہا کہ کیلاش ثقافت اور شندور پولو فیسٹیول کی عالمی اہمیت کے باوجود ہزاروں سیاحوں کے لیے سہولیات ناکافی ہیں۔

رہائش، خوراک اور ہنگامی طبی سہولیات میں واضح کمی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چترال کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی شدید کمی ہے، حتیٰ کہ آپریشن کے لیے پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ انہوں نے ضلع بھر میں فعال ڈائیلاسس مشینوں کی عدم دستیابی پر بھی سوال اٹھایا اور بتایا کہ لوئر چترال میں موجود مشینیں بھی غیر فعال ہیں۔سینیٹر طلحہ محمود نے سڑکوں کی خراب حالت پر بھی تشویش ظاہر کی اور انہیں خطرناک قرار دیا، جہاں تنگ راستے دریاؤں اور پہاڑوں کے ساتھ ساتھ واقع ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے گاڑیوں کے دریا میں گرنے کے واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ چترال کے راستے ہر سال کئی ماہ تک بند رہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لواری ٹنل کے باوجود سفری مشکلات برقرار ہیں جبکہ پروازیں محدود ہونے کے باعث ہوائی سفر بھی قابلِ اعتماد متبادل نہیں۔ ان کے مطابق شندور تک پہنچنے میں 10 سے 12 گھنٹے کا دشوار سفر درپیش ہوتا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی کی شرط کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا اور اس کے اجرا میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ داخلہ کے حکام کو طلب کرنے کی تجویز دی تاکہ انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کے مسائل حل کیے جا سکیں۔ انہوں نے ترکی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیاحت سے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں، اور سوال اٹھایا کہ پاکستان اس میدان میں پیچھے کیوں ہے۔سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی ان خدشات کی تائید کی اور ملک میں سیاحت کے فروغ میں عدم توازن کی نشاندہی کی۔

انہوں نے چترال اور شمالی علاقوں کا موازنہ مری، نتھیا گلی اور ناران-کاغان جیسے مقامات سے کرتے ہوئے کہا کہ خوبصورتی کے باوجود بنیادی سہولیات جیسے سڑکیں اور ہسپتال دستیاب نہیں۔انہوں نے اس عدم توازن کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کے بغیر سیاحت کے فروغ کے دعوے بے معنی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انٹرنیٹ، صحت، رہائش اور ایندھن کی دستیابی سیاحت کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور خواتین کو دور دراز سے پانی لانا پڑتا ہے۔انہوں نے کلام جیسے سیاحتی مقامات پر ناقص منصوبہ بندی اور رش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور مجموعی حکمتِ عملی کو ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو سیاحت قومی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے سیکیورٹی تاثر اور اسلاموفوبیا کو بھی بین الاقوامی سیاحت میں رکاوٹ قرار دیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر دلاور خان نے ہدایت کی کہ سیاحت کے شعبے میں صوبوں کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کیا جائے، جس میں گزشتہ برسوں کی رپورٹس بھی شامل ہوں۔ انہوں نے مربوط کوششوں اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے اعلان کی کہ چترال کی ترقی اور سیاحتی امکانات پر ایک علیحدہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ اداروں کو طلب کیا جائے گا، جن میں چیئرمین پی ٹی اے، وزارتِ داخلہ، وزارتِ توانائی، وزارتِ پیٹرولیم، خیبر پختونخوا کے صحت کے محکمے، وزارتِ مواصلات، سول ایوی ایشن اتھارٹی، محکمہ آبپاشی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، ڈی آئی جی خیبر پختونخوا اور ڈی پی او مالاکنڈ شامل ہوں گے۔

آسٹریلیا کے دورے کے دوران قومی ہاکی ٹیم کو درپیش مسائل، بشمول اخراجات کی ادائیگی، 2023 کے الاؤنسز کی عدم ادائیگی اور سرکاری پروٹوکول کی کمی سے متعلق بریفنگ، محرک کی عدم موجودگی کے باعث مؤخر کر دی گئی۔وزارتِ بین الصوبائی رابطہ نے نیشنل انٹرن شپ پروگرام کی بحالی اور مرکزیت کے لیے ایک تجویز پیش کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس پروگرام کو شفافیت، یکساں پالیسی اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے سرکاری اداروں میں مربوط کیا جانا چاہیے، جبکہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ منصوبہ تیار کیا جائے گا۔

کمیٹی کو گن اینڈ کنٹری کلب پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جو 2002 میں SAF گیمز 2004 کے لیے ایک شوٹنگ سہولت کے طور پر قائم کیا گیا تھا اور بعد میں اسے ایک مکمل تفریحی کمپلیکس میں توسیع دی گئی۔ حکام نے اس کی سہولیات، بشمول کھیلوں، صحت و تندرستی، کھانے پینے اور خاندانی تفریح کے انتظامات سے آگاہ کیا۔سیکرٹری آئی پی سی نے رکنیت اور فیس کے ڈھانچے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کلب کے تقریباً 2000 اراکین ہیں۔ اسلام آباد کلب کے مقابلے میں یہاں فیس نسبتاً کم ہے۔حکام نے بتایا کہ اس وقت کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جا رہی، تاہم سہولیات کی بہتری کے لیے جدید آلات کی تنصیب، توسیعی منصوبے اور بہتر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔