Live Updates

ایران تجاویز قبول کرلے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے، ورنہ زیادہ شدت سے بمباری شروع ہوگی، ٹرمپ

معاہدے کی صورت میں انتہائی مؤثر بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، اور آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا؛ امریکہ کے صدر کا بیان

Sajid Ali ساجد علی بدھ 6 مئی 2026 17:32

ایران تجاویز قبول کرلے تو جنگ ختم ہو سکتی ہے، ورنہ زیادہ شدت سے بمباری ..
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو کھولنے اور طے شدہ تجاویز کو قبول کرنے میں ناکامی دکھائی، تو ایران پر امریکی بمباری پہلے سے کہیں زیادہ شدت اور اعلیٰ سطح پر دوبارہ شروع کردی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کو ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کی قبولیت سے مشروط کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران ان تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو طے پا چکی ہیں، تو امریکہ اپنی فوجی مہم ایپک فیوری کو ختم کر دے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی صورت میں انتہائی موثر بحری ناکہ بندی ختم کر دی جائے گی، آبنائے ہرمز کو ایران سمیت تمام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دیا جائے گا، ایران کا ان شرائط پر راضی ہونا شاید ایک "بڑا مفروضہ" ہے، تاہم اگر ایران تجاویز کو مسترد کرتا ہے، اگر وہ متفق نہیں ہوتے تو بمباری دوبارہ شروع ہو جائے گی، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بلند سطح اور شدت کے ساتھ ہوگی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مختصر مدتی امن معاہدے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا، ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کا یہ بیان بات چیت کے ذریعے دباؤ کی ایک مثال ہے، جہاں وہ ایران کو میز پر لانے کے لیے براہِ راست حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات