Live Updates

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کر دی

اگر ایران نے طے شدہ شرائط کو مان لیا تو جاری آپریشن ایپک فیوری ختم اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی، ڈونلڈ ٹرمپ

muhammad ali محمد علی بدھ 6 مئی 2026 19:03

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کر دی
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2026ء) امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران طے شدہ شرائط مان لیتا ہے جو کہ شاید ایک بڑا مفروضہ ہے تو ایپک فیوری آپریشن ختم کردیا جائے گا۔ اگر ایران نے طے شدہ شرائط مان لیا تو جاری آپریشن ایپک فیوری ختم اور آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔

مؤثر ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی اور ایران نے شرائط مان لیں تو آبنائے ہرمز ایران کے لیے بھی کھل جائے گی۔ اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو بم باری دوبارہ شروع ہوجائے گی، جوبدقسمتی سے پہلے سے بھی زیادہ شدید بم باری ہوگی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مختصر مدتی امن معاہدے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف صدر ٹرمپ کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گا، ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کا یہ بیان بات چیت کے ذریعے دباؤ کی ایک مثال ہے، جہاں وہ ایران کو میز پر لانے کے لیے براہِ راست حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دشمنی کے خاتمے کے لیے جاری بات چیت اب اپنے حساس ترین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی ٹی وی سی این بی سی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسماعیل بقائی نے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران کو ایک جامع "14 نکاتی امن پیکج" پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے، ایرانی حکام اس وقت ان تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جا سکے، مذاکرات اب اس نہج پر ہیں جہاں کسی بھی فیصلے کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

یاد رہے کہ ایرانی دفترِ خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا بشمول Axios نے دعویٰ کیا ہے کہ فریقین ایک مختصر مدتی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، اگر ایران ان 14 نکات پر رضامندی ظاہر کر دیتا ہے، تو اس سے نا صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں نرمی کا امکان ہے، آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات