کینا بیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی ( سی سی آر اے )کا وادی تیراہ سے آئے قبائلی عمائدین، مشران، ملکوں اور کمیونٹی نمائندوں کے اعلیٰ سطحی وفد کیلئے قومی بھنگ پالیسی پر خصوصی بریفنگ ومشاورتی اجلاس

بدھ 6 مئی 2026 22:14

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 06 مئی2026ء) کینا بیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے) نے بدھ کے روز اسلام آباد میں اپنے ہیڈکوارٹرز میں وادی تیراہ سے آئے قبائلی عمائدین، مشران، ملکوں اور کمیونٹی نمائندوں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے لیے قومی بھنگ پالیسی پر خصوصی بریفنگ اور مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا۔ اجلاس کا مقصد روایتی بھنگ (کینابیس) کاشت کو ایک قانونی، منظم اور معاشی طور پر فائدہ مند نظام کے تحت لانا تھا۔

وفد کا استقبال ڈائریکٹر جنرل (سی سی آر اے )میجر جنرل (ر) ظفر اللہ خان ہلال امتیاز (ملٹری)نے سینئر حکام کے ہمراہ کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی سی سی آر اے نے کہا کہ قومی بھنگ پالیسی تقریباً ڈیڑھ سال کی مسلسل محنت، ادارہ جاتی مشاورت، تفصیلی غور و فکر اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور قومی معاشی ترجیحات کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایک طویل عرصے سے غیر منظم شعبے کو شفاف، قانونی اور معاشی طور پر موثر صنعت میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مقامی آبادی اور قومی معیشت دونوں مستفید ہو سکیں۔انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ نئے لائسنسنگ فریم ورک کے تحت قبائلی کاشتکاروں کو قانونی تحفظ، منڈی تک براہ راست رسائی، شفاف قیمتوں کا نظام اور استحصالی مڈل مین سے نجات حاصل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کاشتکاروں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ڈی جی سی سی آر اے نے کہاکہ وہ فصل جو کئی دہائیوں تک غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک رہی، اب وادی تیراہ کے عوام کے لیے عزت، خوشحالی اور قانونی معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ریاست کا مقصد دبائو نہیں بلکہ مقامی آبادی کو ایک منظم معاشی نظام میں شامل کرنا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پالیسی صرف طبی اور صنعتی مقاصد کے لیے بھنگ (کینابیس) اور ہیمپ کے استعمال پر مرکوز ہے جن میں ادویاتی مصنوعات، درد کے علاج، مرگی سے متعلق ادویات، صنعتی فائبر، ٹیکسٹائل اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات شامل ہیں جن کی عالمی سطح پر بڑی طلب موجود ہے۔بریفنگ کے دوران حکومت کے اس وسیع ترقیاتی وژن پر بھی روشنی ڈالی گئی جس کے تحت اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

وفد کے اراکین نے کینا بیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے )کی قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ڈی جی اور اتھارٹی کے سینئر حکام کو وادیٔ تیراہ کے دورے کی دعوت دی تاکہ مقامی کمیونٹی اور کاشتکاروں کے ساتھ رابطہ مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ڈی جی سی سی آر اے نے اس دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسلسل مشاورت اور فیلڈ انگیجمنٹ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر وفد نے کاشتکاروں کے حقوق، قیمتوں کے تعین، شفافیت اور مقامی کسانوں کے تحفظ سے متعلق بعض تحفظات اور خدشات بھی پیش کیے۔ ڈی جی سی سی آر اے نے یقین دہانی کرائی کہ ان تمام امور کو ادارہ جاتی تحفظات اور شفاف ریگولیٹری نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔اس سلسلے میں کینا بیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے )اور قبائلی وفد کے درمیان ایک مشترکہ مشاورتی کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا جس کا مقصد وادی تیراہ کے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ اور اتھارٹی و مقامی نمائندوں کے درمیان مستقل رابطہ یقینی بنانا ہے۔

وفد نے زور دیا کہ بیرونی عناصر کو وادی تیراہ میں مقامی کاشتکاروں کے مفادات متاثر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس پر ڈی جی سی سی آر اے نے واضح کیا کہ قومی بھنگ پالیسی میں کلسٹر لائسنسنگ اور گروپ فارمنگ جیسے ماڈلز شامل کیے گئے ہیں تاکہ مقامی آبادی اور کاشتکاروں کو ترجیح دی جا سکے۔ڈی جی سی سی آر اے نے مزید کہا کہ اتھارٹی کی جانب سے متعارف کرایا گیا ڈیجیٹل لائسنسنگ نظام مکمل شفافیت، میرٹ پر مبنی منظوریوں اور کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنائے گا۔

ان کے مطابق درخواستوں پر مقررہ وقت میں کارروائی کی جائے گی اور کسی سفارش یا مڈل مین کی ضرورت نہیں ہوگی۔اجلاس خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا جہاں دونوں جانب سے قانونی کاشت، معاشی ترقی، علاقائی استحکام اور ریاست و عوام کے درمیان طویل المدتی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ڈی جی سی سی آر اے نے کہاکہ یہ محض زرعی منصوبہ نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک موقع ہے جس کے ذریعے روزگار، ریاست اور عوام کے تعلقات اور قومی خوشحالی کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔\932