صحافیوں کے تحفظ کے لیے قائم کمیشن کا اجلاس، صحافی طفیل رند کے قتل کی بابت رپورٹس پر بریفنگ

کمیشن کی طرف سے صحافیوں کی لائف انشورنس اور سیفٹی ٹریننگز کے لیے ڈیٹابیس پر کام جاری

جمعرات 7 مئی 2026 00:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) صحافیوں اور دیگر میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کے لیے قائم سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس کا اجلاس بدھ کو چیئرمین اعجاز احمد میمن کی زیر صدارت سندھ آرکائیوز میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے مظہر عباس، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر توصیف احمد خان، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز سے مقصود یوسفی، آل پاکستان نیوزپیرز سوسائٹی کے نمائندہ قاضی اسد عابد, آل پاکستان نیوزپیپرس ایمپلائیز کنفیڈریشن کے نمائندہ عبیداللہ،سیکریٹری انفارمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈائریکٹر اطلاعات محمد عمران الذنون،سیکریٹری ہوم کے نمائندہ ایڈیشنل سیکریٹری ذیشان احمد پھلپوٹو، ہیومن رائٹس کے ایڈیشنل سیکریٹری علی گل سنجرانی، محکمہ قانون کے ایڈیشنل سیکریٹری اسدللہ بھٹی ، اور کمیشن کیسیکریٹری سعید میمن نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں گذشتہ برس 2025 کی کاکردگی رپورٹ پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی، اور فیصلہ کیا گیا کہ اس کو کتاب کی شکل میں شایع کرایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ اجلا س میں گذشتہ برس اکتوبر میں میرپورماتھیلو میں قتل ہونے والے صحافی طفیل رندکے بابت میرپور ماتھیلو پریس کلب کے صدر کی رپورٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، پریس کلب کے صدر کے علاوہ ضلع گھوٹکی میں نامزد کمیشن کی فوکل پرسن کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔

اس کے علاوہ ڈی آئی جی سکھر کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق صحافی طفیل رند کا قتل کا بنیادی سبب ان کے رشتیداروں کے ساتھ کسی زمینی پلاٹ کا پرانہ تنازعہ اور اس پر پرانی ذاتی دشمنی ہے جس پر چار ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور اس وقت کیس میرپورماتھیلو کی عدالت میں ہے۔ کمیشن ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ طفیل رند کی فیملی سے بھی رپورٹ طلب کی جائے تاکہ اس کے قتل کے محرکات کا ہر زاویہ سے جائزہ لیا جا سکے۔

اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ صحافی نصراللہ گڈانی کے کیس کی بریفنگ کے لیے ان کے وکیل کو کمیشن کے آئندہ اجلاس میں بلایا جائے گا۔اس موقع پر چیئرمین اعجاز احمد میمن نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی طرف سے سندھ میں کام کرنے والے تمام میڈیا ہاسز کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ قانونی طور پر میڈیا اداریصحافیوں کی لازمی حفاظتی تربیت اور لائف انشورنس کے ذمہ دار ہیں۔

اس کے علاوہ کمیشن کی طرف سے مختلف اداروں کی تعاون سے سندھ میں کام کرنے والے صحافیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ پالیسی سازی میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میڈیا مالکان کو صوبائی حکومت کی کم از کم اجرت پالیسی پر عملدرآمد کے لیے بھی پابند کیا گیا ہے ۔ کمیشن نے صحافیوں کی لائف انشورنس ، سیفٹی ٹریننگز اور کم از کم اجرت کے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے این پی این ایس کے عہدیداران سے ملاقات بھی کی ہے، اور بہت جلد سی پی این ای اور پی بی اے سمیت دیگر نمائندہ تنظیموں سے رابطہ کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے ان تمام آرگنائیزیشنز کو آگے بڑھ کر کمیشن کا ساتھ دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ پی ایف یو جے کے نمائندہ سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ حالیہ دنوں ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کیسز درج کیے جار رہے ہیں جوکہ انتہائی تشویشناک ہے۔