سی سی آر اے کی قومی کینابس پالیسی پر قبائلی عمائدین کو خصوصی بریفنگ، قانونی و منظم کاشت کے ذریعے معاشی ترقی اور ریاستی تعاون کے نئے امکانات روشن

جمعرات 7 مئی 2026 16:58

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) پاکستان میں قومی کینابس پالیسی کے تحت روایتی کینابس کاشت کو قانونی، منظم اور شفاف معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ریاستی اداروں اور قبائلی قیادت نے مشترکہ مشاورت، ریگولیشن اور مقامی شمولیت کے ذریعے ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے جس کا مقصد مقامی کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ، معاشی مواقع کی فراہمی اور کینابس سے وابستہ روایتی منفی تاثر کو بتدریج ایک قانونی و صنعتی تناظر میں تبدیل کرنا ہے۔

اسلام آباد میں کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سی سی آر اے) کی جانب سے وادی تیراہ سے آئے قبائلی عمائدین، مشران اور مقامی نمائندوں کو دی گئی خصوصی بریفنگ میں ریاست اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان تعاون، شفاف ریگولیشن اور معاشی شراکت داری کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

وفد کا استقبال ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل (ر) ظفر اللہ خان نے سینئر حکام کے ہمراہ کیا۔

قبائلی عمائدین کی بھرپور شرکت نے اس امر کو نمایاں کیا کہ حکومت پالیسی سازی اور ریگولیٹری عمل میں مقامی سٹیک ہولڈرز کو شریک رکھتے ہوئے اتفاق رائے اور اعتماد سازی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی سی سی آر اے نے کہا کہ قومی کینابس پالیسی تقریباً ڈیڑھ سال کی مسلسل مشاورت، تفصیلی غور و فکر اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں و قومی معاشی ترجیحات کے مطابق تیار کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایک طویل عرصے سے غیر منظم شعبے کو شفاف، قانونی اور معاشی طور پر موثر صنعت میں تبدیل کرنا ہے تاکہ مقامی آبادی اور قومی معیشت دونوں مستفید ہو سکیں۔انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ نئے لائسنسنگ فریم ورک کے تحت قبائلی کاشتکاروں کو قانونی تحفظ، شفاف قیمتوں کا نظام، منڈی تک براہ راست رسائی اور استحصالی مڈل مین سے نجات حاصل ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ کاشتکاروں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ڈی جی نے کہا کہ وہ فصل جو کئی دہائیوں تک غیر قانونی سرگرمیوں اور سماجی منفی تاثر سے منسلک سمجھی جاتی رہی، اب طبی اور صنعتی مقاصد کے تحت قانونی و منظم کاشت کے ذریعے مقامی آبادی کے لیے عزت، روزگار اور معاشی استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا مقصد دبائو نہیں بلکہ مقامی آبادی کو ایک منظم اور قانونی معاشی نظام میں شامل کرنا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پالیسی صرف طبی اور صنعتی مقاصد کے لیے کینابس اور ہیمپ کے استعمال پر مرکوز ہے جن میں ادویاتی مصنوعات، درد کے علاج، مرگی سے متعلق ادویات، صنعتی فائبر، ٹیکسٹائل اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات شامل ہیں جن کی عالمی سطح پر نمایاں طلب موجود ہے۔

بریفنگ کے دوران حکومت کے اس وسیع ترقیاتی وژن پر بھی روشنی ڈالی گئی جس کے تحت اس شعبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔وفد کے اراکین نے سی سی آر اے کی قیادت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ڈی جی اور اتھارٹی کے سینئر افسران کو وادی تیراہ کے دورے کی دعوت دی تاکہ مقامی کمیونٹی اور کاشتکاروں کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنائے جا سکیں۔

ڈی جی نے اس دعوت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مسلسل مشاورت اور فیلڈ انگیجمنٹ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔اس موقع پر وفد نے کاشتکاروں کے حقوق، قیمتوں کے تعین، شفافیت اور مقامی کسانوں کے تحفظ سے متعلق بعض تحفظات بھی پیش کیے جن پر ڈی جی نے یقین دہانی کرائی کہ ان تمام امور کو ادارہ جاتی تحفظات اور شفاف ریگولیٹری نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

اجلاس میں سی سی آر اے اور قبائلی وفد کے درمیان ایک مشترکہ مشاورتی کمیٹی قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا جس کا مقصد وادی تیراہ کے کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ اور اتھارٹی و مقامی نمائندوں کے درمیان مستقل رابطہ یقینی بنانا ہے۔ڈی جی سی سی آر اے نے مزید کہا کہ اتھارٹی کا ڈیجیٹل لائسنسنگ نظام مکمل شفافیت، میرٹ پر مبنی منظوریوں اور کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنائے گا جبکہ درخواستوں پر مقررہ وقت میں کارروائی کی جائے گی اور کسی سفارش یا مڈل مین کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ریاستی اداروں، قبائلی قیادت اور مقامی کاشتکاروں کے درمیان مسلسل مشاورت، شفاف ریگولیشن اور باہمی تعاون کے ذریعے قانونی کاشت، معاشی ترقی، علاقائی استحکام اور مقامی آبادی کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جائے گا۔ شرکا نے اس پیش رفت کو مقامی کمیونٹیز کو قومی معیشت کے منظم دھارے میں شامل کرنے اور ریاست و عوام کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔