خواتین ٹی ٹونٹی عالمی کپ کی تاریخ تقریبا دو دہائیوں پر محیط ہے،آئی سی سی

جمعرات 7 مئی 2026 19:41

خواتین ٹی ٹونٹی عالمی کپ کی تاریخ تقریبا دو دہائیوں پر محیط ہے،آئی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 مئی2026ء) بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی خواتین ٹی ٹونٹی عالمی کپ کی تاریخ تقریبا دو دہائیوں پر محیط ہے، جس کے دوران شائقین کرکٹ کو سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ پہلا خواتین ٹی ٹونٹی عالمی کپ 2009میں انگلینڈ میں منعقد ہوا، جہاں میزبان انگلینڈ نے فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلا عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔

ایمی واٹکنز سب سے زیادہ رنز بنانے والی جبکہ ہولی کولون سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی کھلاڑی رہیں اور کلیئر ٹیلر کو بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔2010میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے دوسرے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے اپنی برتری قائم کرنا شروع کی اور فائنل میں نیوزی لینڈ کو تین رنز سے شکست دے کر پہلاٹائٹل جیتا۔

(جاری ہے)

نوجوان ایلیس پیری نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کیا جبکہ نکولا بران کو بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

2012میں سری لنکا میں ہونے والے عالمی کپ میں آسٹریلیا نے مسلسل دوسرا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ فائنل میں انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلہ آخری گیند تک جاری رہا اور آسٹریلیا نے چار رنز سے کامیابی حاصل کی۔ شارلٹ ایڈورڈز بہترین کھلاڑی رہیں جبکہ جولی ہنٹر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی گیند باز بنیں۔ 2014میں پہلی مرتبہ دس ٹیموں نے عالمی کپ میں حصہ لیا اور بنگلہ دیش اور آئرلینڈ نے پہلی بار شرکت کی۔

آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے مسلسل تیسرا ٹائٹل جیت لیا۔ میگ لیننگ سب سے زیادہ رنز بنانے والی جبکہ انیا شربسول سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی کھلاڑی رہیں۔2016میں بھارت میں ہونے والا عالمی کپ خواتین کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ویسٹ انڈیز نے آسٹریلیا کی حکمرانی ختم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ عالمی کپ جیتا۔

فائنل میں ہیلی میتھیوز اور اسٹیفنی ٹیلر نے شاندار شراکت قائم کر کے ویسٹ انڈیز کو آٹھ وکٹوں سے کامیابی دلائی۔ اسی روز ویسٹ انڈیز کی مردوں کی ٹیم نے بھی عالمی کپ جیتا تھا۔2018میں پہلی مرتبہ خواتین ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کو مردوں کے مقابلوں سے الگ منعقد کیا گیا۔ بھارت نے عمدہ کھیل پیش کیا اور ہرمن پریت کور کی سنچری نے خاص توجہ حاصل کی تاہم آسٹریلیا نے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر چوتھا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

الیسا ہیلی نمایاں بلے باز جبکہ دیاندرا ڈاٹن سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی کھلاڑی رہیں۔2020میں آسٹریلیا میں ہونے والے عالمی کپ کا فائنل میلبورن کرکٹ گراونڈ میں کھیلا گیا جہاں ریکارڈ تماشائیوں نے آسٹریلیا اور بھارت کا مقابلہ دیکھا۔ آسٹریلیا نے بھارت کو شکست دے کر پانچواں عالمی ٹائٹل حاصل کیا۔ بیتھ مونی اور میگن شٹ نے پورے مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھائی۔

2023میں جنوبی افریقہ نے پہلی مرتبہ خواتین عالمی کپ کی میزبانی کی اور فائنل تک رسائی حاصل کی، تاہم آسٹریلیا نے ایک بار پھر کامیابی سمیٹتے ہوئے چھٹا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پاکستان کی منیبہ علی نے آئرلینڈ کے خلاف سنچری بنا کر تاریخ رقم کی۔ لورا وولوارڈٹ سب سے زیادہ رنز بنانے والی جبکہ سوفی ایکلسٹون سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی گیند باز رہیں۔

ایشلے گارڈنر کو بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔2024میں نیوزی لینڈ نے پہلی مرتبہ چوبیس برس بعد عالمی اعزاز حاصل کیا۔ اس عالمی کپ میں نہ آسٹریلیا اور نہ ہی انگلینڈ فائنل تک پہنچ سکے، جو ایک تاریخی موقع تھا۔ نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو فائنل میں 32 رنز سے شکست دے کر چوتھی مختلف عالمی چمپئن ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ لورا وولوارڈٹ مسلسل دوسری بار سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی بنیں جبکہ امیلیا کیر بہترین کھلاڑی اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی گیند باز قرار پائیں۔