اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 مئی 2026ء) گزشتہ ایک سال کے دوران شام کے بارے میں تصورات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ ایک ایسا ملک جسے کبھی دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی بدنام ریاست کہا جاتا تھا، پھر خانہ جنگی سے تباہ حال ملک، اور اب اسے مشرق وسطیٰ اور یورپ کو ملانے والے توانائی کے ممکنہ مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی جو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث پیدا ہونے والے عالمی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایران
کے آبنائے ہرمزکو بند کردینے کے بعد، اب شام خود کو تیل اور گیس پیدا کرنے والے ان ممالک کے لیے ایک ممکنہ متبادل راستے کے طور پر پیش کر رہا ہے، جن کے پاس اپنی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔(جاری ہے)
خطے کے وسط میں واقع شام کی جغرافیائی حیثیت اور ایسی خارجہ پالیسی جس نے دانستہ طور پر اسے ایران جنگ سے دور رکھا، اس خیال کو کافی پذیرائی دلا رہی ہیں۔
کچھ پہلوؤں سے اس منصوبے پر پہلے ہی عمل شروع ہو چکا ہے۔ اپریل کے آغاز میں شام اور عراق نے اپنی سرحدیں دوبارہ کھول دیں تاکہ عراقی تیل بردار ٹینکر بحیرہ روم کی بندرگاہوں تک پہنچ سکیں۔
اسٹریٹیجک غیر جانبداری
یہ ان طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے شام اس پوزیشن سے فائدہ اٹھا رہا ہے جسے مبصرین نے ایران جنگ میں 'اسٹریٹیجک غیر جانبداری‘ قرار دیا ہے۔
بیروت
میں کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر سے وابستہ محقق خضر خضور نے مارچ میں ایک مباحثے کے دوران کہا تھا، ''دمشق کی نئی قیادت ایک بنیادی مقصد کے ساتھ اقتدار میں آئی: شام کو دوبارہ علاقائی تنازعات کا میدان بننے سے روکنا۔ اسی لیے، جب سے ایران کے ساتھ تنازعہ شروع ہوا ہے، شامی حکام نے اس تنازعے میں براہ راست شامل ہونے کے بجائے اس کے اثرات کو سنبھالنے پر زیادہ توجہ دی ہے۔‘‘اقتدار میں آنے کے بعد سے شام کی عبوری حکومت نے اپنی سرحدیں مضبوط کر کے اور عراق و لبنان میں ایران نواز گروہوں تک اسلحہ، نقد رقوم اور منشیات کی اسمگلنگ روک کر خود کو ایران سے دور کر لیا ہے۔
مزید یہ کہ عراق کے برعکس، شام نے اقوام متحدہ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کے خلاف کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی۔
تحریر انسٹیٹیوٹ برائے مشرق وسطیٰ پالیسی کے فیلو سمیع عقیل کے مطابق بعض حلقوں نے اسے ایران مخالف مہم کے لیے شام کی خاموش حمایت کے طور پر دیکھا ہے۔
تاہم سمیع عقیل نے مزید کہا، ''شام کی پوزیشن بظاہر کسی انتخاب سے زیادہ ایک مجبوری دکھائی دیتی ہے۔ بین الاقوامی برادری میں اس کی دوبارہ شمولیت، پابندیوں میں نرمی اور تعمیر نو کے لیے مالی معاونت، ان سب کا انحصار واشنگٹن اور خلیجی ممالک کے اعتماد کو برقرار رکھنے پر ہے۔
‘‘شام کے عبوری صدر احمد الشرع بھی سفارتی سرگرمیوں میں کافی متحرک رہے ہیں، جن کے دوران وہ بار بار اس بات پر زور دیتے رہے کہ ان کا ملک کس قدر مفید کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسرائیل
کے انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کی سینئر محققہ کارمِت ویلینسی نے ایک بریفنگ میں تصدیق کی، ''جنگ کے آغاز کے بعد سے احمد الشرع کی جانب سے تیز کی گئی سفارتی مہم اس بات کی کوشش معلوم ہوتی ہے کہ شام کو ایک تعمیری اور اہم کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر پیش کیا جائے۔‘‘بہت سے مواقع
اقتصادی مواقع بھی موجود ہیں۔ تیل کی برآمدات کو آسان بنانے کے منصوبے کے علاوہ شام بڑی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے ساتھ تیل اور گیس کی تلاش کے حوالے سے مذاکرات بھی کر رہا ہے۔ عراق، شام اور اردن کے درمیان زمینی اور ریلوے ٹریفک میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ لاجسٹکس کے لیے راہداریوں اور بجلی کے نیٹ ورکس کو بھی وسعت مل سکتی ہے۔
شام زمینی بنیادوں پر ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن کیبل بچھانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اپریل میں ایران نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیر سمندر ٹیلی کمیونیکیشن کیبلز بھی حملوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ سب کچھ پرامید دکھائی دیتا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا شام کی نئی حکومت آمریت اور خانہ جنگی سے نکلنے کے عمل سے جڑے بڑے مسائل حل کر پاتی ہے یا نہیں۔
شامی صحافی مازن عزّی نے گزشتہ ہفتے آن لائن میڈیا ادارے 'دی امرگی‘ کے لیے لکھا، ''سرمایہ کاری میں دلچسپی حقیقی ہے، لیکن یہ سیاسی استحکام، واضح قوانین، سکیورٹی کی ضمانتوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی سے مشروط ہے۔‘‘
پیرس میں قائم عرب ریفارم انیشی ایٹیو کے سینئر فیلو حید حید نے بھی اپریل میں اپنے تجزیے میں اتفاق کیا تھا کہ ایران جنگ نے شام کے لیے ایک اسٹریٹیجک موقع ضرور پیدا کیا ہے۔
تاہم ان کے مطابق اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ مواقع کامیاب ہوں گے۔حید حید کے مطابق، ''مسلسل اصلاحات، بہتر حکمرانی اور قابل اعتماد سرمایہ کاری ماحول کے بغیر شام کا ایک علاقائی راہداری کے طور پر دوبارہ ابھرنا محدود اور عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
ادارت: مقبول ملک