پاکستان جنگ میں کامیابی کے ساتھ امن کا بھی داعی ہے

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب

جمعہ 8 مئی 2026 12:03

پاکستان جنگ میں کامیابی کے ساتھ امن کا بھی داعی ہے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 مئی2026ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان جنگ میں کامیابی کے ساتھ امن کا بھی داعی ہے، پاکستان ہمیشہ سے یہ موقف رکھتا آیا ہے کہ امن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے معرکہ حق کی تقریب اس بات کی دلیل ہے کہ معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے زیر اہتمام معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ سال معرکہ حق کے دوران قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران واضح کیا تھا کہ آج ہم سیاسی تقسیم سے مبرا ہیں، آج دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کا وقت ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کامیابی قومی اتحاد و اتفاق سے ہی ملتی ہے، معرکہ حق کے دوران ایسے منفرد اور تاریخی منظر سامنے آئے جن میں سرحد پر فوج کے جوانوں کے ساتھ شہری بھی ڈرون کو نشانہ لیتا دکھائی دیا۔ یہ مناظر تاریخ میں محفوظ ہو گئے ہیں اور اس دوران پوری قوم متحد ہو کر کھڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بیانیہ، سفارتی اور عسکری محاذوں پر اللہ تعالیٰ نے پاکستانی قوم کو منفرد اعزاز اور فتح سے نوازا ہے، رافیل طیارے گرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا غرور بھی خاک میں مل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ اور ہمارے ایئر ڈیفنس سسٹم نے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، آج دنیا بھر میں پاک فضائیہ کی تعریف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو ایسا موثر جواب دیا گیا کہ وہ چار گھنٹوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات، بہادری اور موثر جنگی حکمت عملی کے باعث پاکستان فتح سے ہمکنار ہوا، دشمن فتح میزائلوں کے حملے برداشت نہ کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے ترجمان چند گھنٹوں بعد ٹی وی سکرینوں پر شکست خوردہ دکھائی دیئے، ان کے چہروں سے واضح تھا کہ وہ شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کے منہ توڑ جواب کے بعد بھارت نے سیز فائر کے لئے منت سماجت شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایسی عزت عطا کی ہے کہ آج دنیا پاکستان کو امن کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے اور پاکستان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد اوورسیز پاکستانیوں نے فخر کے ساتھ پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ جس انداز میں خوشی کا اظہار کیا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوری قوم کے لئے باعث فخر اور اعزاز ہے کہ ایک سال میں پاکستان نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو بروقت اور موثر جواب دیا جس کے اثرات سے بھارت اب تک باہر نہیں نکل سکا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بیانیہ کی جنگ تنہاء نہیں لڑی جا سکتی تھی، اس کے لئے بہترین کوآرڈینیشن کی ضرورت ہوتی ہے، معرکہ حق کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر سے لمحہ بہ لمحہ رابطہ تھا، ہم نے بین الاقوامی میڈیا پر جا کر پاکستان کا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا جبکہ مقامی صحافیوں اور میڈیا ہائوسز نے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا جو قابل تحسین اور تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کا بھارتی میڈیا سے کوئی موازنہ نہیں، بھارتی میڈیا بعض اوقات تھیٹر، نوٹنکی یا کامیڈی شو کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے لاہور اور ملتان کی بندرگاہوں کو تباہ کرنے کے بے بنیاد دعوے کئے جس کے باعث بھارتی میڈیا بری طرح بے نقاب ہوا جبکہ پاکستانی میڈیا کو عالمی سطح پر ذمہ دار اور بالغ نظر میڈیا کے طور پر سراہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وطن کی بات آتی ہے تو تمام اختلافات پس پشت چلے جاتے ہیں اور صرف ایک ہی نظریہ رہ جاتا ہے وہ پاکستان کا نظریہ ہے جس پر پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستانی میڈیا کا کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ ہماری نوجوان نسل نے میمز کے ذریعے اس جنگ کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی عائد کی تو اس پر ہمیں خوشی ہوئی کیونکہ یہ اس بات کی علامت تھی کہ انہیں تکلیف پہنچ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے تجویز دی کہ ہم اپنے ملی نغمے اور پاک فوج کے ترانے اشتہارات کی صورت میں بھارت کے یوٹیوب چینلز پر چلائیں گے، ہم نے ایسا نظام وضع کیا کہ شام کے وقت پورے بھارت میں ملی نغمے اور پاک فوج کے ترانے سنائی دے رہے تھے جس پر وہاں کی حکومت پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے کہ ان کی وزارت اطلاعات کہاں ہے اور یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی دوران ہماری نوجوان نسل نے میمز کے ذریعے اس جنگ کو ایک نئی جہت دی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم، جنریشن زی، سوشل میڈیا صارفین، صحافیوں، میڈیا ہائوسز، وکلاء، انجینئرز اور ڈاکٹرز سب نے اپنے اپنے انداز میں بیانیہ کے محاذ پر کردار ادا کیا، ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ ڈالا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلح افواج نے جس انداز سے یہ جنگ لڑی اس نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

پاکستان کو اس کے مثبت نتائج اور ثمرات حاصل ہو رہے ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان 27 ویں رمضان کی شب معرض وجود میں آیا ہے، یہ ملک اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جنگ کے دوران پوری قوم نے عملی طور پر عوام اور مسلح افواج کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ دیکھا، اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے دشمن کا تکبر اور غرور چند گھنٹوں میں خاک میں مل گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دن ہے۔ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، پاکستان جنگ میں کامیابی کے ساتھ امن کا داعی بھی ہے۔ ایسی مثالیں دنیا میں بہت کم ہی ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت جن لوگوں نے نظریہ پاکستان پر یقین رکھتے ہوئے جدوجہد کی، وہ ایک جذبے اور جنون کے ساتھ آگے بڑھے اور آج ان کی قربانیاں رنگ لا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ امن کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پہلگام واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی پیشکش ایک مثبت اور سنجیدہ اقدام تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف صف اول میں لڑ رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے ابھی نندن کو گرفتار کرنے کے بعد جذبہ خیرسگالی کے تحت واپس کیا جس پر اسے بھارت میں ایوارڈ دیا گیا، کوئی غیرت مند انسان اس طرح کا ایوارڈ نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے جبکہ بھارت اس کو بیرونی مسئلہ قرار دیتا ہے جبکہ تنازعہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے بھارت داخلی معاملہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی ریاست کو داخلی اور خارجی کے فرق کا پتہ نہ ہو تو پھر شکست اس کا مقدر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت میں جس اندازسے افواج پاکستان نے کردار ادا کیا، وہ قابل تحسین ہے، اسی طرح ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ان کی ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں پاک بحریہ مکمل طور پر تیار اور مستعد رہی، نیوی ہر قسم کے ممکنہ چیلنج کا موثر جواب دینے کے لئے تیار تھی۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی یہ تقریب ایک مثبت روایت ہے، اسے جاری رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح ہمارے لئے فخر، اتحاد و اتفاق کی علامت ہے۔ اس دن تمام پاکستانی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں جو قابل ستائش ہے۔ تقریب کے اختتام پر کیک بھی کاٹا گیا۔