قبضہ مافیا کے خلاف سخت آپریشن کا فیصلہ، ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی

سرجانی ٹاؤن سیکٹر 10 اور 13 میں ایک مقامی بلڈر عوام کو غیر قانونی زمین فروخت کر رہا ہے، لہذا شہری ایسے جعلساز عناصر سے ہوشیار رہیں،سید ناصر شاہ

جمعہ 8 مئی 2026 23:55

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت قبضہ مافیا کے خلاف ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور رکن سندھ اسمبلی قاسم سومرو سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈپٹی کمشنر ویسٹ، ایس ایس پی ویسٹ، ڈی جی کے ڈی اے، ایم ڈی اے، ایل ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف سخت آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔فیصلے کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں مشترکہ آپریشن کیا جائے گا جبکہ محکمہ قانون مکمل قانونی معاونت فراہم کرے گا۔

(جاری ہے)

وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز آپریشن میں شامل ہوں گے اور کسی بھی سطح پر غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آپریشن میں محکمہ کچی آبادی بھی شامل ہوگا اور قبضہ مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرجانی ٹاؤن سیکٹر 10 اور 13 میں ایک مقامی بلڈر عوام کو غیر قانونی زمین فروخت کر رہا ہے، لہذا شہری ایسے جعلساز عناصر سے ہوشیار رہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی ادارے کے افسران یا اہلکار قبضے میں ملوث پائے گئے تو شواہد کی بنیاد پر ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ناصر حسین شاہ نے خبردار کیا کہ آج کے بعد اگر ریونیو، اینٹی انکروچمنٹ، پولیس یا انتظامیہ کے کسی علاقے میں قبضے کی شکایت سامنے آئی تو متعلقہ افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ کی ہدایات پر تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی ہوگی اور کوئی بھی بااثر شخصیت قانون سے بالاتر نہیں ہوگی۔

میئر کراچی مرتضی وہاب نے اجلاس میں کہا کہ کراچی میں راتوں رات کچی آبادیاں قائم ہوجاتی ہیں لیکن کوئی ادارہ ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا، اس لیے کچی آبادیوں اور گوٹھ آباد کا جامع سروے بھی کرایا جائے گا۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ترقیاتی ادارے اپنے ریکارڈ اور دستاویزات درست کریں تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے اور آپریشن کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا جائے گا کہ کسی بے گناہ شہری کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔