وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال سے صدر لاہور چیمبر کی ملاقات، برآمدات بڑھانے پر زور

جمعہ 8 مئی 2026 22:48

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال سے ملاقات کی جس میں آئندہ وفاقی بجٹ اور لاہور چیمبر کی بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزارتِ تجارت سے متعلق امور، خاص طور پر خام مال پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز، ٹیرف اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وفاقی سیکرٹری کامرس جواد پال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح برآمدات میں اضافہ اور ملک کی آمدن بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے کاروباری برادری کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لاہور چیمبر کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

(جاری ہے)

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ بار بار ایس آر اوز کے اجرا اور ٹیکس قوانین کی مختلف تشریحات سے صنعتی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتوں اور برآمدات کے فروغ کے لیے مستحکم اور واضح پالیسی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے کیونکہ توانائی، ٹیکسز اور دیگر اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خام مال اور انٹرمیڈیٹ مصنوعات پر ڈیوٹیز کم کی جائیں تاکہ مقامی صنعت اور برآمدات کو سہارا مل سکے۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ موجودہ 0 سے 15 فیصد ٹیرف نظام مقامی صنعت کے لیے کافی نہیں، کیونکہ پاکستانی صنعتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ لاگت پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں کے لیے الگ الگ ٹیرف نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے برآمد کنندگان کے لیے آسان اور قابلِ اعتماد فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) بحال کرنے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے اور مینوفیکچررز اور کمرشل امپورٹرز کے درمیان ودہولڈنگ ٹیکس کے فرق کو کم کرنے کی تجویز بھی دی۔

ملاقات میں ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس ) کی نگرانی بہتر بنانے، ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ اور پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کے ذریعے اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ حقیقی برآمد کنندگان متاثر نہ ہوں۔ایکسپورٹ ڈائیورسیفیکیشن، ویلیو ایڈڈ شعبوں، ووکیشنل ٹریننگ، آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر لاہور چیمبر نے صنعتوں سے منسلک تربیتی پروگراموں اور جدید مہارتوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔فہیم الرحمن سہگل نے اسٹیٹ بینک کی پالیسی میں اصلاحات کے ذریعے بل ٹو شپ ٹو نظام کے تحت تھرڈ کنٹری ٹریڈ کی اجازت دینے اور پیک شدہ دودھ اور گوشت کی مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ معیاری اور محفوظ فوڈ انڈسٹری کو فروغ مل سکے۔