پاکستان کا بجٹ "سیدھا" کرنے آئی ایم ایف کا وفد آئے گا

15 ہزار 300 ارب روپے ٹیکس وصولیوں کا ہدف، 230 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگنے کا امکان، تاجروں کیلئے نئی ٹیکس سکیم تیار

Sajid Ali ساجد علی اتوار 10 مئی 2026 13:44

پاکستان کا بجٹ "سیدھا" کرنے آئی ایم ایف کا وفد آئے گا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مئی2026ء) پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2026/27ء کے بجٹ کی منظوری اور معاشی اہداف کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا اہم دور بدھ سے شروع ہو رہا ہے، آئی ایم ایف کا وفد منگل کو اسلام آباد پہنچے گا جہاں ایک ہفتے تک قیام کے دوران 230 ارب روپے کے اضافی ٹیکسوں اور بجٹ اخراجات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

سینئر صحافی شہباز رانا کی خبر کے مطابق حکومت پاکستان نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے قبل آئی ایم ایف کو اعتماد میں لینے کی تیاری مکمل کر لی ہے، مذاکرات کا بنیادی مقصد اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف 15.3 ٹریلین (15 ہزار 300 ارب) روپے مقرر کرنا اور مالیاتی خسارے کو قابو میں رکھنا ہے۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خواہش ہے تنخواہ دار طبقے، خاص طور پر متوسط آمدنی والے گروہ کو انکم ٹیکس میں ریلیف دیا جائے، وزیراعظم سپر ٹیکس اور کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کے حق میں ہیں، کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح کو بتدریج کم کر کے 22 فیصد تک لانے کی تجویز ہے، تاہم آئی ایم ایف نے واضح کر دیا ہے کہ اگر کسی ایک شعبے کو ریلیف دیا گیا تو اس کا مالیاتی بوجھ کسی دوسرے شعبے پر ڈال کر پورا کرنا ہوگا تاکہ مجموعی ٹیکس ہدف متاثر نہ ہو۔

بتایا گیا ہے کہ حکومت تاجروں کے لیے ایک سادہ ٹیکس سکیم متعارف کروانے جا رہی ہے، تاجروں کی سالانہ فروخت یعنی ٹرن اوور پر 1 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، یہ سکیم ان چھوٹے تاجروں پر لاگو ہوگی جن کی سالانہ فروخت 30 کروڑ روپے تک ہے، اس سکیم میں شامل ہونے والے تاجر 'پوائنٹ آف سیل' کی رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہوں گے اور صرف ایک صفحے کا سادہ ٹیکس فارم جمع کرائیں گے۔

آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی بے یقینی کے باعث پاکستان کو سخت معاشی پالیسیاں برقرار رکھنی ہوں گی، مجموعی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.5 فیصد (تقریباً 4.9 ٹریلین روپے) تک محدود رکھا جائے، غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ متوقع شرحِ افراط زر (8.4 فیصد) سے زائد نہیں ہونا چاہیئے، آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کی سبسڈی 890 ارب روپے سے تجاوز نہیں کرنی چاہیئے۔