اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 مئی 2026ء) بھارت اپنے جنوبی ترین علاقے، گریٹ نکوبار جزیرے، کو جو خلیج بنگال میں واقع ہے، ایک بڑے اسٹریٹیجک اثاثے میں تبدیل کر رہا ہے۔
انڈمان اور نکوبار جزائر کے سلسلے کے آخری سرے پر واقع یہ جزیرہ بھارتی سرزمین کے مقابلے میں انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا سے زیادہ قریب ہے۔ یہ آبنائے ملاکا کے نزدیک واقع ہے، جو دنیا کے مصروف ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
نئی دہلی تقریباً 9 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے وہاں ایک ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ، ہوائی اڈہ، ٹاؤن شپ اور دیگر بنیادی ڈھانچے تعمیر کر رہا ہے۔
تاہم اس منصوبے کو ماحولیاتی اور سماجی اثرات کے حوالے سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔ ناقدین کے مطابق تقریباً 8 لاکھ 52 ہزار درخت کاٹے جائیں گے، جبکہ مقامی شومپین قبائل سمیت دیگر مقامی آبادیوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
(جاری ہے)
نئی دہلی اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش میں
اس منصوبے کا حجم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نئی دہلی کی اسٹریٹیجک سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے، جہاں توجہ صرف بھارتی سرزمین تک محدود رکھنے کے بجائے اب سمندری حکمت عملی پر بھی دی جا رہی ہے۔
سابق ایئر مارشل آر نمبیار کے مطابق گریٹ نکوبار جزیرے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ بھارت کو اس کے ممکنہ حریفوں کو اس خطے پر کنٹرول حاصل کرنے سے روکنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف اپنے عقب کے علاقے سے دشمن کی گزرگاہ روکنا ہے۔‘‘
انہوں نے 'بلیو واٹر نیوی‘ کے چیلنجز کا ذکر کیا، یعنی ایسی بحریہ جو اپنے ساحلوں سے دور دنیا بھر میں کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، خصوصاً جب مخالف فریق کی طاقت بھارت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
نمبیار نے کہا، ''بھارت کو ایک ایسی ’پیئر پلس‘ بحریہ کا سامنا کرنے کی تیاری کرنا ہو گی، جہاں بڑے بحری بیڑے اب انتہائی درست حملوں اور فضائی طاقت کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی بلیو واٹر نیوی جو پہلے اپنی بقا یقینی نہ بنا سکے، وہ کسی چیز پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتی۔‘‘
بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی
بھارت
کی اسٹریٹیجک سوچ میں یہ سارا حساب کتاب زیادہ تر چین کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے، جو خطے میں اس کا سب سے بڑا حریف ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا واحد ملک ہے جو بھارت کا مقابلہ کرتا ہے۔بیجنگ گزشتہ دو دہائیوں سے بحر ہند میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ اس نے سری لنکا، پاکستان اور جبوتی میں بندرگاہوں تک رسائی حاصل کی، جبکہ آبدوزوں اور نگرانی کرنے والے جہازوں کی تعیناتی بھی مسلسل بڑھائی ہے۔ اس کے علاوہ چین سمندری تہہ کی نقشہ سازی بھی ان علاقوں میں کر رہا ہے جنہیں بھارتی منصوبہ ساز اپنے اسٹریٹیجک 'عقب‘ کا حصہ سمجھتے ہیں۔
گریٹ نکوبار جزیرہ کسی حد تک اسی بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھارتی جواب سمجھا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سابق ایئر چیف مارشل آر کے ایس بھدوریا نے کہا کہ نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر بھارت کی اس صلاحیت میں ایک اہم پیش رفت ہو گی جس کے ذریعے وہ اپنے تجارتی راستوں کی حفاظت اور ضرورت پڑنے پر سمندری ماحول پر غلبہ حاصل کر سکے گا۔
چین کے اثر و رسوخ پر نظر
تاہم چین کی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنا ہی گریٹ نکوبار کی ترقی کے منصوبے میں بھارت کا واحد مقصد نہیں ہے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی امور کے پروفیسر سری کانت کونڈاپلی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی محرک ''پہلے معیشت، اور پھر اسٹریٹیجک مفادات‘‘ ہیں۔
انہوں نے کہا، ''اگر آپ چین کو دیکھیں تو اس نے 1990 کی دہائی سے تقریباً 3,000 جزائر کو ترقی دی ہے، اور اب اس کی معاشی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ انہی کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
‘‘انہوں نے مزید کہا، ''بھارت بھی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ بحر ہند میں چین کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا، ''چین گریٹ کوکو جزیرے سے بھارتی خلائی مشنز کی نگرانی کرتا ہے، خلیج بنگال کی نقشہ سازی کر رہا ہے، اور بحر ہند میں اپنی ماہی گیری کی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، جبکہ بحیرہ جنوبی چین میں رسائی بھی محدود کرتا جا رہا ہے۔
‘‘کونڈاپلی کے مطابق یہی دوہرا پہلو اس منصوبے کی اصل اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
بھارت کی طویل المدتی حکمت عملی
مبصرین کے مطابق گریٹ نکوبار میں جاری تعمیرات بھارت کی عملی فوجی پوزیشن کو مضبوط ضرور بناتی ہیں، لیکن اس کی واضح حدود بھی موجود ہیں۔
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں قومی سلامتی اور چینی امور کے ماہر اتول کمار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اس کی ترقی نگرانی، انٹیلیجنس اور جاسوسی کی صلاحیتوں کو بہتر بناتی ہے، جس سے فوری ردعمل اور زیادہ مؤثر دفاعی اشارے دینا ممکن ہو گا۔
‘‘انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اہمیت کو حقیقی کنٹرول میں تبدیل کرنے کے لیے بھارت کو بڑے بحری بیڑے، مزید آبدوزوں اور مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں کی ضرورت ہو گی۔
تاہم انہوں نے اس کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے خلاف خبردار بھی کیا۔
چین
میں بھارت کے سابق سفیر اشوک کانتھا نے کہا کہ جزیرے کی جغرافیائی پوزیشن واقعی اہم ہے، لیکن بھارت کی عملی فوجی طاقت کے بارے میں ''حتمی نتائج‘‘ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔ادارت: مقبول ملک