چین کے اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کا ایف پی سی سی آئی کراچی کا دورہ، اقتصادی تعلقات اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر زوردیا گیا

پیر 11 مئی 2026 19:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 مئی2026ء) ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ چین کے 50 سے زائد ممتاز کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وصنعتی وفد نے پیر کے روز کراچی میں فیڈریشن ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مقامی صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لیا۔

صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کے مطابق یہ دورہ پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی کی خصوصی سہولت کاری سے ممکن ہوا اور یہ چین سے پاکستان آنے والے تاریخ کے بڑے صنعتی و سرمایہ کاری وفود میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان جلد چین میں ایک بڑی ایکسپورٹ نمائش منعقد کرے گا، جس میں پاکستانی معیشت اور برآمدات کے 18 سے زائد اہم شعبے شامل ہوں گے۔

(جاری ہے)

پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے اس موقع پر کہا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے تاریخی، سفارتی و تزویراتی تعلقات کو ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی وفد کی ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کراچی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبے صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طویل المدتی مشترکہ منصوبوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور حکومت ان روابط کو مزید آسان بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے بتایا کہ چینی وفد نے پاکستانی کاروباری شخصیات کے ساتھ اہم بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں کیں۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے براہِ راست سرمایہ کاری، صنعتوں کی منتقلی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ منصوبوں کو فوری طور پر فروغ دینا ضروری ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے مزید کہا کہ وفد میں شامل نمائندگان معیشت کے مختلف اہم شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں معدنیات، کیمیکل، ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ، قابلِ تجدید توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، آٹوموبائل، فوڈ پروسیسنگ اور زراعت شامل ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی قیادت اس دورے کو پاکستان کی معیشت اور روزگار کے لیے ایک بڑی پیش رفت سمجھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین کو برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور اعلیٰ معیار کے کنٹرول پر توجہ دینا ہوگی۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان کے مطابق مختلف صنعتی شعبوں میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کریں گے۔

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے مقامی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ چینی مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے تاجروں کو مشورہ دیا کہ وہ ان ملاقاتوں کے ذریعے نئی تجارتی راہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات کو نجی شعبے تک وسعت دے کر مضبوط اقتصادی تعاون میں تبدیل کرنا ایک حقیقی گیم چینجر ثابت ہوگا۔

ایف پی سی سی آئی کی پاکستان-چین بزنس کونسل کے چیئرمین شبیر منشاء نے پاکستان اور چین کے درمیان مستقل تجارتی سرگرمیوں اور بزنس ٹو بزنس روابط کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باقاعدہ روابط ہی تجارتی خسارے کو کم کرنے، باہمی ترقی کو فروغ دینے اور سفارتی تعلقات کو عوامی خوشحالی میں بدلنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہونگے۔