Live Updates

بھارت اوردیگرممالک میں پٹرول سستا ہے لیکن پاکستان میں قیمتیں 415 روپے فی لیٹر تک کیوں پہنچ گئیں؟

فی لٹر پٹرول پر 120 روپے لیوی اور 35 روپے اضافی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ڈھائی کروڑ موٹر سائیکل سواروں اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا خطاب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ پیر 11 مئی 2026 23:45

بھارت اوردیگرممالک میں پٹرول سستا ہے لیکن پاکستان میں قیمتیں 415 روپے ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 مئی 2026ء ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور ان کو فارم سنتالیس کے ذریعے لانے والے عوام کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہوگئے، آئی ایم ایف کو مسلط کرنے ، سٹیٹ بنک کو خود مختار بنانے اور جنرل (ر) باجودہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے پی ٹی آئی بھی ان دو حکمرانوں پارٹیوں کے ساتھ تھی، اب چپرے اور پارٹیاں نہیں نظام بدلنے کا وقت آگیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد میں ممبر شپ مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری ، قائم مقام امیر فیصل آباد چوہدری محمد سلیم نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ صدر تاجر ونگ رانا سکندر اعظم بھی اس موقع پر موجود تھے۔

(جاری ہے)

تقریب میں مردو خواتین  کی بڑی تعداد شریک تھی۔ جماعت اسلامی کی ممبر شپ مہم کے دوران ملک بھر میں پچاس لاکھ ممبر اور پچاس ہزار عوامی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ممبرشپ مہم کے اہداف کے حصول پر عید کے بعد عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اور پٹرول، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے خلاف بڑی تحریک چلائیں گے، عوام تیاری کرلیں۔ 
امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ عوام بے روزگاری، مہنگائی اور بدترین حکومتی نظام کے عذاب میں مبتلا ہیں، فیصل آباد میں 150 سے زائد ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔

پاکستان وسائل، معدنیات اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ملک ہے لیکن ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ ملک کو مسلسل لوٹ رہا ہے۔ بیوروکریٹس، جاگیرداروں اور حکمران اشرافیہ کے گٹھ جوڑ نے عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے اور ظاہری نمائش کے لیے چند سڑکیں بنا دینا گڈ گورننس نہیں کہلاتا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کئی دہائیوں سے اقتدار میں ہونے کے باوجود عوام کو صحت، تعلیم اور انصاف کی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکی۔

پنجاب میں صحت کے بنیادی مراکز تک فروخت کیے جا رہے ہیں اور ان پر مریم نواز کے نام کی تختیاں لگائی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز عوام کے پیسے سے صرف اپنی تشہیر کر رہی ہیں جبکہ صحت اور تعلیم کا نظام تباہ حال ہے۔ پنجاب میں پہلے 11 ہزار اور اب مزید 25 ہزار اسکول آؤٹ سورس (Outsource ) کیے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کا کام سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بنانا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جس کے باعث مافیا اور جرائم پیشہ عناصر انہیں اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل ہو چکا ہے کیونکہ جامعات اور کالجز کو مناسب فنڈز نہیں دیے جا رہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ طبقاتی نظام میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ تعلیمی ڈھانچے قائم ہیں۔

حکومت عوام سے ٹیکس تو وصول کرتی ہے مگر بچوں کو مفت، معیاری اور لازمی تعلیم فراہم نہیں کرتی، چند نمائشی اسکول یا سڑکیں بنا کر عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے جبکہ اصل ذمہ داری تمام شہریوں کو یکساں سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے آئی پی پیز معاہدوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 32 برس سے آئی پی پیز مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے اور پاکستانی قوم بند پاور پلانٹس (Power Plants) کے بھی پیسے ادا کرنے پر مجبور ہے۔

حکومت عوام سے بھاری بل وصول کر کے چند لوگوں کو کیپسٹی پیمنٹ (Capacity Payment) کی مد میں نواز رہی ہے جبکہ دوسری طرف لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی جاری ہے۔
کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب میں گندم کی قیمت صرف 3500 روپے مقرر کر کے کسانوں کا معاشی قتل کیا گیا۔ زرعی ادویات اور دیگر اخراجات انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں جبکہ حکومتی سرپرستی میں قائم کمپنیاں کم قیمت پر گندم خرید کر بعد میں مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں، جو کسان دشمن پالیسی ہے۔

انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ جب بھارت اور دیگر ممالک میں پٹرول سستا ہے تو پاکستان میں قیمتیں 415 روپے فی لٹر تک کیوں پہنچ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی لٹر پٹرول پر 120 روپے لیوی اور 35 روپے اضافی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ڈھائی کروڑ موٹر سائیکل سواروں اور غریب طبقے پر پڑ رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ نظام میں غریب آدمی کو انصاف کے لیے بھی دربدر ہونا پڑتا ہے، غریب کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی اور اگر درج ہو بھی جائے تو بھگتنا اسی کو پڑتا ہے۔ انہوں نے تاجر برادری سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی تحریک کا ساتھ دیں کیونکہ ملک میں سینکڑوں ملیں بند اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات