Live Updates

آبنائے ہرمز بحران کا فوری اور پرامن حل ضروری، یو این چیف

یو این پیر 11 مئی 2026 23:00

آبنائے ہرمز بحران کا فوری اور پرامن حل ضروری، یو این چیف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 مئی 2026ء) آبنائے ہرمز کے بحران میں شدت آنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کے پرامن حل پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے اثرات افریقہ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں بھی پھیل رہے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ مذاکرات جاری رکھے جائیں تاکہ مسئلے کے سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے، جنگ بندی برقرار رہے اور اس دوران آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو اس کے نہایت ہولناک نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں 'افریقہ فارورڈ کانفرنس' سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران دنیا بھر کو متاثر کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

افریقہ کی تقریباً 13 فیصد درآمدات خصوصاً تیل اور کھاد اسی اہم بحری راستے سے گزر کر آتی ہیں جو خلیج فارس کو دنیا سے ملاتا ہے۔

توانائی اور کھاد کی قیمتوں کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے کا یہی واحد راستہ ہے کہ اس آبنائے کو کھلا رکھا جائے۔

زراعت پر دباؤ

انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ اگرچہ کینیا اس بحران سے زیادہ متاثر نہیں ہو گا کیونکہ ملک میں کاشتکاری کا حالیہ سیزن مکمل ہو چکا ہے لیکن افریقہ کے کئی ممالک اب بھی خلیجی ممالک سے آنے والی کھاد اور زرعی سامان کے منتظر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یوریا کھاد کی قیمت صرف ایک ماہ میں 35 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب کاشتکاری کا اہم موسم جاری ہے۔ یوریا نائٹروجن سے بھرپور اور دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کھادوں میں شامل ہے۔ اگر کھاد دستیاب نہ ہوئی تو آئندہ سال خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ براعظم افریقہ بے پایاں صلاحیتوں کا حامل ہے مگر دوسری جنگ عظیم کے فاتح ممالک کے قائم کردہ اور انہی کے حق میں جھکے عالمی مالیاتی نظام نے اسے پیچھے دھکیل رکھا ہے۔

افریقی ممالک بلند شرح سود پر قرض لینے پر مجبور ہیں، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے انہیں مہیا کی جانے والی مالی معاونت ناکافی ہے اور عالمی فیصلہ ساز اداروں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا، یہ ناقابل قبول ہے کہ افریقی ممالک ترقی کے لیے درکار قرضے حاصل کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں تین گنا زیادہ قیمت ادا کریں۔

سیکرٹری جنرل نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، افریقی ممالک میں سرمایہ کاری کے بہتر مواقع اور سلامتی کونسل میں افریقہ کی مستقل نمائندگی کا مطالبہ بھی کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فرانس اور برطانیہ ایسی قانون سازی کی تیاری کر رہے ہیں جس کے تحت سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو نسل کشی یا سنگین جرائم کے معاملات میں ویٹو کے استعمال کو محدود کرنا ہو گا۔

غیرمتوازن سلامتی کونسل

انہوں نے کہا کہ ایسی سلامتی کونسل آج کی دنیا کی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتی جس میں تین یورپی، ایک ایشیائی اور ایک شمالی امریکی ملک مستقل رکن ہوں جبکہ لاطینی امریکہ اور افریقہ کی کوئی مستقل نمائندگی نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عدم توازن سے سلامتی کونسل کی ساکھ خراب ہوتی ہے اور اس طرح عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے اس کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

سیکرٹری جنرل نے سوڈان میں فوری جنگ بندی، جنوبی سوڈان میں مذاکرات کی بحالی، مشرقی کانگو میں امن کے لیے پیش رفت اور ساہل خطےمیں دہشت گردی و بدامنی کا مسئلہ سیاسی طور پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تنازعات کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب غیرافریقی ممالک براعظم میں متحارب فریقین کو اسلحہ فراہم کرنا بند کریں گے کیونکہ یہی عناصر امن کے قیام کو مشکل بنا رہے ہیں۔

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات