Live Updates

ایران جنگ: ترسیلات پر انحصار کرنے والے پاکستانی گھرانے پریشان

DW ڈی ڈبلیو پیر 11 مئی 2026 20:20

ایران جنگ: ترسیلات پر انحصار کرنے والے پاکستانی گھرانے پریشان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 مئی 2026ء) خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب اپنے گھر والوں کو ارسال کردہ رقوم سے لاکھوں خاندان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے صورتحال مختلف ہوتی جا رہی ہے۔

چونتیس سالہ ثمینہ بی بی راولپنڈی کے مضافات میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں۔

اسی ہفتے انہیں اپنے شوہر کا پیغام ملا کہ ان کی تنخواہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔ تین بچوں کی ماں کہتی ہیں کہ اس اطلاع کے بعد وہ اپنے آنسو مشکل سے ہی روک سکیں۔

ثمینہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ان کے شوہر گزشتہ دس برس سے سعودی عرب میں مقیم ہیں، جہاں وہ ریاض کی ایک تعمیراتی کمپنی میں کام کرتے ہیں، ''وہ (شوہر) بتاتے ہیں کہ علاقائی کشیدگی (ایران جنگ) کی وجہ سے کمپنی کو مشکلات کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

ثمینہ نے کہا کہ وہ اور ان کے بچے اپنے شوہر کی طرف سے ہر ماہ بھیجے جانے والے اسی ہزار روپے پر ہی گزرا کرتے رہے ہیں اور اگر یہ پیسے نہ آئے تو ان کا کیا ہو گا؟

ثمینہ کے لیے رقوم کی ترسیل میں تاخیر محض ایک مشکل نہیں بلکہ ان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرنے والا سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ کا بحران اس خطے میں کام کرنے والے مزدوروں کے خاندانوں پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔

بیرون ملک ترسیلات پر انحصار

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جہاں سب سے زیادہ ترسیلات زر آتی ہیں۔ بیرون ممالک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر اپنے گھر والوں کو بھیجتے ہیں اور ان رقوم کی بڑی مقدار خلیجی ممالک سے ہی آتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو موصول ہونے والی 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات میں سے نصف سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات آیا تھا۔

لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران کے باعث یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، آٹومیشن اور مقامی مزدوروں کو ترجیح دینے جیسے عوامل لاکھوں پاکستانی خاندانوں کی آمدن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

معاشی تجزیہ نگار خرم حسین کہتے ہیں، ''یہ اطلاعات بڑھ رہی ہیں کہ خلیجی ممالک سے مزدور واپس بھیجے جا رہے ہیں تاہم اس کی تصدیق شدہ تعداد ابھی دستیاب نہیں۔

‘‘

حسین نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں مزید کہا، ''متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستان کی مجموعی ترسیلات کا تقریباً 20 فیصد حصہ دیتا ہے، اس لیے اگر یہاں سے کمی ہوئی تو یہ پیش رفت زرمبادلہ کے ذخائر اور مزدوروں کے خاندانوں دونوں پر دباؤ ڈالے گی۔‘‘

ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکی ہیں، جو زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیتی اور کرنسی کو مستحکم بھی رکھتی ہیں۔

تاہم یہ نظام پاکستان کی سرحدوں سے باہر کے حالات پر منحصر ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں مقیم ماہر اقتصادیات صفیہ آفتاب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر ترسیلات کم ہو جائیں تو شدید مشکلات پیدا ہوں گی، کیونکہ ہم اشیاء اور خدمات کے بجائے زیادہ مزدور برآمد کرتے ہیں۔‘‘

سرحدوں کے مابین بٹے ہوئے خاندان

ثمینہ کے شوہر دس برس سے سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں اور ہر دو سال بعد گھر آتے ہیں۔

باقی وقت ان کا رابطہ ویڈیو کالز کے ذریعے ہوتا ہے۔ ان کے بچے اسی صورتحال میں بڑے ہوئے ہیں۔

ثمینہ کہتی ہیں، ''میرا سب سے چھوٹا بچہ آج بھی پوچھتا ہے کہ ابو مستقل طور پر کب واپس آئیں گے اور مجھے جواب نہیں معلوم ہوتا۔‘‘

پاکستان میں یہ صورتحال عام سی بات ہے۔ ماہرین سماجیات اسے ''ٹرانس نیشنل ہاؤس ہولڈ‘‘ کہتے ہیں، جہاں خاندان مختلف ممالک میں بٹے ہوتے ہیں لیکن مالی مجبوری ان کو جوڑے رکھتی ہے۔

غیر یقینی حالات کے شکار گھرانے

جب بھی خلیجی ممالک میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اس کے اثرات براہ راست ان خاندانوں پر پڑتے ہیں، جو ترسیلات پر انحصار کرتے ہیں۔ ثمینہ کہتی ہیں، ''وہاں کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کا اثر ہم یہاں محسوس کرتے ہیں۔‘‘

اس سال ان کے شوہر کے کام کے اوقات کم کر دیے گئے، جس کی وجہ سے وہ کم رقم بھیجنے پر مجبور ہو گئے۔

ایک بار تاخیر ہوئی تو بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے ثمینہ کو قرض بھی لینا پڑا۔ وہ کہتی ہیں، ''ایسا لگتا ہے سب کچھ رک گیا ہو۔ بس انتظار اور امید رہ جاتی ہے۔‘‘

امیگریشن وکیل اسامہ ملک کہتے ہیں، ''بہت زیادہ انحصار ایک ہی خطے اور ایک ہی قسم کی مزدوری پر ہے۔ لیکن اب نوجوان ملائیشیا یا بیلاروس جیسے ممالک کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ یو اے ای کو اب غیر یقینی سمجھا جانے لگا ہے۔

‘‘

مائیگریشن کے جذباتی پہلو

ہجرت اقتصادی فوائد لاتی ہے لیکن جذباتی مشکلات بھی پیدا کرتی ہے۔ ثمینہ اکیلی گھر سنبھالتی ہیں، بچوں کی پرورش کرتی ہیں، سسرال کا خیال رکھتی ہیں اور مالی فیصلے خود کرتی ہیں، جبکہ ان کے شوہر بیرون ملک سخت حالات میں کام کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط بنانا ہو گی اور مزدوروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔

صفیہ آفتاب کے بقول، ''پاکستان کو خلیجی ترسیلات پر اتنا انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ زرعی، صنعتی اور سروس سیکٹر میں بہتری لانا ضروری ہے۔‘‘

لیکن ثمینہ جیسے خاندانوں کے لیے یہ پالیسی مباحث بہت دور کی باتیں ہیں۔ ان کے بقول، ''ہماری زندگی ان (شوہر) کی نوکری پر ہی چل رہی ہے۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔‘‘

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات