پاکستان میں آئی بی آئی کے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا قیام انتہائی مثبت ثابت ہوگا ، وزیراعظم محمد شہباز شریف

جمعہ 15 مئی 2026 12:10

پاکستان میں آئی بی آئی کے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا قیام  انتہائی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 مئی2026ء) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آئی بی آئی گروپ کی طرف سے پاکستان میں اپنے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کے قیام کے فیصلے کو سراہتے ہوئے پاکستان اور چین کے مابین کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چین کے 11 رکنی بڑے کاروباری وفد نے جمعہ کو یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی جس کی سربراہی آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ ٹیکنالوجی کے بانی، صدر اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر چیان شیاو جون کر رہے تھے ۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت میں چین کی شاندار ترقی کو سراہا اور کہا کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اپنے دورۂ چین کے منتظر ہیں۔ وزیرِ اعظم نے آئی بی آئی گروپ کے پاکستان میں اپنے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کے فیصلے کو سراہا اور پاکستان و چین کے درمیان کاروباری سطح پر بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ آئی بی آئی ڈیجیٹل، معیشت میں تعاون، سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی اشتراک کو فروغ دے گا۔پاکستانی معیشت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چیان شیاو جون نے کہا کہ آئی بی آئی پاکستان کی معیشت میں ڈیجیٹل اصلاحات میں معاونت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی بی آئی کے ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا قیام اس ضمن میں انتہائی مثبت ثابت ہوگا اور پاکستان کے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ تک رسائی فراہم کرکے بے شمار مواقع مہیا کرے گا۔

بیان کے مطابق یہ وفد وزیرِ اعظم کے ستمبر 2025 میں دورۂ بیجنگ کے دوران منعقدہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کے تسلسل میں پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ ملاقات میں وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔