مقبوضہ جموں وکشمیر میں بے شمارخاندانوں کو شدید مشکلات اور ناانصافیوں کا سامنا

تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ صرف علاقائی امن بلکہ جنوبی ایشیا میں طویل مدتی سیاسی اور اقتصادی استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے

جمعہ 15 مئی 2026 14:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) دنیا بھر میں آج خاندانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جبکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بے شمارخاندانوں کواقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بھارتی فوج اور پولیس کے ہاتھوں بدستور انتقامی کارروائیوں اورظلم و تشدد کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خاندانوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر دنیا کاوہ واحد علاقہ ہے جہاں بڑی تعداد میں قابض فوجی تعینات ہیں ۔ گزشتہ78برس کے دوران قابض فورسز نے مقبوضہ علاقے میں ہزاروں افراد کو دورن حراست لاپتہ، ظلم و تشدد اور خواتین کو عصمت دری کا نشانہ بناہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران بھارتی فوج، پولیس اور پیراملٹری فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران 8000سے زائد افراد کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیاہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے متاثرہ ہزاروں خاندان اپنے لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو معاشی طور پر شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بیشتر واقعات میں خاندان کوواحد کفیل کو بھارتی فوجیوں نے قتل یا لاپتہ کردیاہے ۔ آزادی کا مطالبہ کرنے پر ہر عمر اور جنس کے کشمیریوں کو بے رحمی سے قتل اور ظلم وتشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت کشمیریوں کو رائے شماری کا مطالبہ کرنے پر جس کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ نے فراہم کی ہے ، اجتماعی سزا دے رہا ہے ۔رپورٹ میں مزیدکہا گیا ہے کہ دودرجن سے زائد خواتین رہنما بشمول آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت ہزاروں کشمیری بھارت اورمقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربندہیں۔

انہیں کشمیری عوام کے جائز مطالبات اور امنگوں کی نمائندگی کرنے پر آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قوانین کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری بیان میں غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنمائوں، کارکنوں اور نوجوانوں کے اہلخانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نظربندوں کے اہلخانہ کی مدد کی اپیل کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل نہ صرف علاقائی امن بلکہ جنوبی ایشیا میں طویل مدتی سیاسی اور اقتصادی استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ صر ف بامعنی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔حریت ترجمان نے دیرپا علاقائی امن کیلئے ش اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔