صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو ادیب سلیم راز کی برسی منائی گئی

اتوار 17 مئی 2026 15:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 مئی2026ء) عالمی امن پشتو کانفرنس کے بانی چیئرمین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ پشتو ادیب، معروف ترقی پسند، انقلابی شاعر، ادیب، صحافی اور نقاد سلیم راز کی برسی اتوار 17 مئی کو منائی گئی۔ سلیم راز 29 مارچ 1939 کو پولیس افسر ملک امان خان کے ہاں گاؤں سکڑ دوابہ ،ضلع چارسدہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول بنوں سے حاصل کی جہاں 1947میں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔

بچپن میں پشتو کی لوک داستانیں اور رومانوی قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتے تھے پریوں کی کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور خود کو کہانی کا مرکزی کردار سمجھ کر ہمیشہ پری زادوں کو دیو کے پنجے سے آزاد کرنے کی خواہش دل میں لیے ہوتے تھے۔

(جاری ہے)

سلیم راز کی ادبی سرگرمیاں اور اعزازات بے شمار ہیں، وہ پشتو عالمی کانفرنس کے بانی چئیرمین ہیں اور عالمی سطح پر دو پشتو عالمی کانفرنس کرا چکے ہیں۔

ملک گیر سطح پر پاکستانی زبانوں کی ترقی پسند تنظیم عوامی ادبی انجمن (پشتو شاخ) پختونخوا کے کنوینر اورمسلسل بائیس سال تک انجمن مصنفین (خیبر پختونخوا) کے جنرل سیکریٹری رہے۔ سلیم راز انٹر نیشنل کانگریس آف رائٹرز کے بانی ممبر ، اکادمی ادبیات پاکستان کے تاحیات ممبر بھی رہے۔ انہوں نے بے شمار ادبی تنظیموں کی بنیاد رکھی اور ان کی سرپرستی کر تے رہے ۔

ان کو فارسی پر بھی عبور حاصل تھا اور اپنے وقت میں گلستان اور بوستان اور قرآن حکیم کا ترجمہ بھی پڑھا ۔ ان کا نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے گہرا تعلق رہا۔ فیض احمد فیض، سید سبط حسن، میر غوث بخش بزنجو، خان عبد الغفار خان (باچا خان) اجمل خٹک سمیت نامور شخصیات سے صحبت رہی اور وہ امام علی نازش کے بھی کافی قریب رہے۔ سلیم راز کی تصانیف میں دزخمونو پسرلے (زخموں کی بھار)،تنقیدی کرخے،لہ باڑے تر باڑہ گلی (باڑے سے باڑہ گلی تک) رپوتاژ،زہ لمحہ لمحہ قتلیگم، (میں لمحہ لمحہ قتل ہوتا رہا)،پشتو شاعری اکسٹھ سال،پشتو انشائیہ پچاس سال،پشتو سفر نامہ پچاس سال اور یقین اردو مقالوں کا مجموعہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ سلیم راز کی پچاس سے زیادہ کتابیں غیر مطبوعہ ہیں۔روخان یوسفزئی کی تحریر کردہ سلیم راز کی سوانح حیات ’’ سلیم راز شخصیت اور فن ‘‘ شائع ہو چکی ہے۔ سلیم راز کومتعدد قومی و بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی، ادبی ، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔