Live Updates

عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، سردار مسعود خان

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات اور غزہ پٹی میں جاری تباہی نے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان تباہ کن تصادم روکنے کے لیے کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، ثالثی کی ناکامی مشرقِ وسطیٰ کو سنگین بحران سے دوچار کر سکتی ہے سفارت کاری، تحمل اور تعمیری مکالمہ ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے،سابق صدر آزاد کشمیر

جمعہ 22 مئی 2026 14:20

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مئی2026ء) آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ تباہ کن علاقائی تصادم کو روکنے کے لیے کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ثالثی کی جاری کوششوں کی ناکامی مشرقِ وسطیٰ کو طویل عدم استحکام اور معاشی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں تیزی سے بدلتی ہوئی ایران۔امریکہ کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے موجودہ صورتحال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیا اور کہا کہ مختلف دارالحکومتوں سے آنے والے متضاد بیانات نے سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اگرچہ اطلاعات ہیں کہ تنازع کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت زیرِ غور ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مصر، ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں، تاہم پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اسلام آباد کی سفارتی سرگرمیاں اور شٹل ڈپلومیسی تیز رفتاری سے جاری ہیں، جبکہ پاکستانی قیادت کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مسلسل متحرک ہے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ مذاکرات میں سب سے پیچیدہ مسئلہ آبنائے ہرمز کی آئندہ حیثیت ہے۔ ان کے مطابق ایران اس اہم بحری گزرگاہ کے کنٹرول اور سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، جس کے باعث جامع معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں مزید دشوار ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران سے آنے والے سخت اور اشتعال انگیز بیانات اعتماد سازی کو متاثر کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کی بیان بازی دونوں ممالک کی قیادت پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کرتی ہے اور کسی غلط اندازے کے خطرات بھی بڑھا رہی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ تہران کا مؤقف ہے کہ پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اس کا جائز حق ہے۔

تاہم افزودگی کی سطح، ذخائر، پابندیوں کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ معطلی کی مدت جیسے معاملات اب بھی مذاکرات میں بنیادی اختلافی نکات ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2015 کا جوہری معاہدہ سفارت کاری کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا تھا اور امکان ہے کہ آئندہ مذاکرات اسی فریم ورک کو مزید ضمانتوں اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ ان کے مطابق بامعنی پیش رفت کے لیے دونوں فریقوں کو باہمی رعایتیں دینا ہوں گی، جن میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔

خطے کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی اقدامات پر شدید تنقید کی اور کہا کہ غزہ پٹی میں جاری تباہی اور پڑوسی علاقوں میں فوجی کارروائیوں نے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اپنے اختتامی کلمات میں سردار مسعود خان نے کہا کہ سفارت کاری، تحمل اور تعمیری مکالمہ ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات