مقبوضہ جموں وکشمیر میں متعدد مقامات پر این آئی اے کی چھاپے

راجوری میں مسلسل تیسرے روز بھارتی فوج کی محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں

پیر 25 مئی 2026 19:10

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 مئی2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے بھارتی پیراملٹری فورسز اورپولیس اہلکاروں کیہمراہ متعدد مقامات پر چھاپے مارے اور حریت پسندوں اورپرامن سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق این آئی اے کی ٹیموں نے سرینگر، شوپیاں اور کئی دیگر اضلاع میں گھر وں پر چھاپے مارے اور تلاشی لی۔

شوپیاں میںقائم تعلیمی ادارے سراج العلوم اور جماعت اسلامی کے کارکنوں اور حریت رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔بھارتی فوج نے راجوری میں آج مسلسل تیسرے روز بھی نام نہاد آپریشن شیرووالی کے تحت محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں ۔

(جاری ہے)

فوجیوں نے ڈوریمل اورگمبھیر موگلہ کے گھنے جنگلات میں بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھیں، ڈرونز اور سراغ رساں کتوںکا استعمال کیا جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

دریں اثناء ایک کمسن بچی کے اغوا،بے حرمتی اور قتل کے خلاف احتجاج کے باعث ضلع بڈگام میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ گلوان پورہ سے تعلق رکھنے والی معصوم بچی مقامی ٹیوشن سنٹر جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اور اگلی صبح اس کی لاش اس کے گھر کے قریب سے برآمد ہوئی جس سے پوری وادی کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔علاقے میں دکانیں اورکاروباری مراکز بند رہے جبکہ لوگوں نے گھنائونے جرم کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے این آئی اے کے تازہ چھاپوں، معصوم شہریوں کے خلاف جاری ظالمانہ کارروائیوں اورکمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے بچائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھی کمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل کے دلدوز واقعے پر گہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے شفاف اورمقررہ وقت کے اندرتحقیقات اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں بالخصوص بچوں اور خواتین کے لیے بڑھتا ہوا عدم تحفظ سخت تشویش کا باعث ہے۔ امریکہ کے شہر بالٹی مور میں ڈاکٹر غلام نبی فائی نے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگرکیا اور کہا کہ کشمیرمحض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل، وقار اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر فائی نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عمل درآمداور جنوبی ایشیا میںپائیدار امن کے لیے بھارت، پاکستان اور حقیقی کشمیری قیادت کے درمیان بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔