میر واعظ عمر فاروق گھر میں نظر بند، مقتول بچی کے اہل خانہ سے ملنے سے روک دیاگیا

راجوری میں محاصرے وتلاسی کی کارروائی چوتھے روز بھی جاری، مزید دو کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط

منگل 26 مئی 2026 22:28

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 مئی2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا اور انہیں ایک 12 سالہ بچی کے اہل خانہ سے اظہارتعزیت کے لیے بڈگام جانے سے روک دیا ہے جسے چند روز قبل اغوااور بے حرمتی کے بعدقتل کیا گیا تھا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بڈگام کے علاقے گلوان پورہ میں بچی کے وحشیانہ قتل سے پورے مقبوضہ علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڈگئی اورلوگ فوری انصاف اور مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میرواعظ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہیں سوگوار خاندان سے ملنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اظہار ہمدردی کے ایک بنیادی انسانی جذبے کو بھی قابض حکام شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اظہار تعزیت سے بھی خطے میں نام نہاد امن اور حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکمرانوں کے بیانئے کو خطرہ لاحق ہے۔دریں اثناء بھارتی فوج،پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس نے آج مسلسل چوتھے روز بھی راجوری کے علاقوں گمبھیر موگلہ، ڈوریمل میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی جاری رکھی ۔ آپریشن میں ڈرونز اور سراغ رساں کتوں کا استعمال کیاجارہا ہے۔

علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور قریبی گائوں کو سخت محاصرے میں رکھا گیا ہے جبکہ گھروں کی سخت تلاشی لی گئی ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خانہ بدوش خاندانوں کے کئی گھروں کو تباہ کیاگیا ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باعث علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول ہے جس سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔

بھارتی پولیس نے نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ اور ریاسی کے علاقے کھیری پاروہ میں تین رہائشی مکانات ضبط کرلئے۔ عامر حسن میر اور جماد علی کی ملکیت ان مکانوںکی قیمت تقریباً 14.5 ملین روپے ہے۔ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے کشمیریوں کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک پر قبضے کاسلسلہ تیز کر دیا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں، چھاپوں، گرفتاریوں، مکانوں کی مسماری، جائیدادوں پر قبضے اور ملازمین کی برطرفی سمیت جابرانہ اقداما ت کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں کشمیریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر سے حق خود ارادیت کے لئے کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی جابرانہ پالیسیوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سرینگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے کہاہے کہ بھارتی پولیس اختلاف رائے کو دبانے اور معصوم شہریوں کے خلاف کالے قوانین لاگوکرنے میں جو پھرتیاں دکھارہی ہے ، بڈگام میں ایک کمسن بچی کی بے حرمتی اور قتل کے بعد متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں وہ پھرتیاں کہاں ہیں۔