تاجر برادری کا آسان ٹیکس اسکیم کا خیرمقدم، ایف بی آر اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ

کاروباری اوقات کار پر نظرثانی اور صنعتی شعبے کے لیے مشاورتی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز

جمعہ 5 جون 2026 21:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جون2026ء) آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی "آسان ٹیکس اسکیم" کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاجروں اور حکومت کے درمیان اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں خالد چوہدری، شاہد عباسی اور دیگر تاجر نمائندوں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اجمل بلوچ نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس نظام انتہائی پیچیدہ، تکنیکی اور عام کاروباری افراد کی سمجھ سے بالاتر تھا جس کے باعث لاکھوں تاجر ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے گریزاں رہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئی اسکیم کے تحت تاجر اپنی سالانہ سیل (ٹرن اوور) کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرے گا جبکہ بجلی کے بلوں یا دیگر ذرائع سے پہلے سے ادا شدہ ایڈوانس انکم ٹیکس قابلِ ایڈجسٹ ہوگا۔

(جاری ہے)

ان کے مطابق ٹیکس ریٹرن فارم اردو سمیت مختلف علاقائی زبانوں میں دستیاب ہوگا جس سے چھوٹے تاجروں کو سہولت ملے گی۔اجمل بلوچ نے کہا کہ اسکیم کے تحت تاجروں کو ایف بی آر اہلکاروں کی غیر ضروری مداخلت اور ہراسانی سے تحفظ حاصل ہوگا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کے اختیارات محدود کیے جائیں اور اسکیم کو قانونی تحفظ دیا جائے تاکہ کوئی ادارہ اسے تبدیل نہ کر سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری اوقات کار پر نظرثانی کی جائے، صنعتی شعبے کے لیے مستقل مشاورتی کمیٹی قائم کی جائے، بند صنعتوں کی بحالی کے لیے خصوصی پیکج دیا جائے، زراعت اور تعمیراتی شعبے کو سہولیات فراہم کی جائیں اور بے روزگاری و مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔تاجر رہنماؤں نے کہا کہ اگر کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور کاروبار دوست پالیسیاں اپنائی جائیں تو ملکی معیشت تیزی سے ترقی کر سکتی ہے۔