سندھ ترقی پسند پارٹی نے وفاقی اور سندھ حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کردیا
یہ بجٹ عوامی فلاح، معاشی خود مختاری اور قومی حقوق کے تحفظ کے بجائے آئی ایم ایف کے احکامات پر تیار کئے گئے ، چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی وفاقی حکومت نہ صرف سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل آئینی حصہ دینے میں ناکام رہی ہے بلکہ مسلسل سندھ کے معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے
جمعہ 19 جون 2026 21:20
(جاری ہے)
حکومت معاشی استحکام اور ترقی کے دعوے کر رہی ہے، لیکن ملک کا مزدور، کسان، محنت کش، ملازم، تاجر اور نوجوان آج بھی شدید معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ آئی ایم ایف دوست بجٹ ہے، جس میں عوام کو بڑھتے ہوئے معاشی دبا سے نکالنے کے لیے کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں، انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نہ صرف سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت اس کا مکمل آئینی حصہ دینے میں ناکام رہی ہے بلکہ مسلسل سندھ کے معاشی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ سندھ حکومت خود اعتراف کر رہی ہے کہ وفاقی وصولیوں میں بڑی کمی کے باعث صوبے کو مالی بحران کا سامنا ہے اور مئی 2026 تک سندھ کو وفاقی محصولات میں سینکڑوں ارب روپے کی کمی برداشت کرنا پڑی، جو وفاقی نااہلی اور صوبوں کے ساتھ ناانصافی کا واضح ثبوت ہے، انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ حکومت بھی وفاقی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے مفاہمت اور سودے بازی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور ترقیاتی پروگرام میں بڑی کٹوتی قبول کرکے سندھ کے حقوق سے دستبرداری کا ثبوت دیا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت سندھ کے حصے میں کمی قبول کرنا یا ترقیاتی بجٹ قربان کرنا کسی صورت سندھ کے عوام کے مفاد میں نہیں، ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ سترہ برسوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہی ہے، لیکن آج بھی سندھ کے لاکھوں لوگ صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ کراچی سے کشمور تک تباہ حال انفرا اسٹرکچر، بدامنی، کرپشن، بے روزگاری اور غربت حکمرانوں کی کارکردگی کا اصل چہرہ ہیں۔ اگر ہر سال ہزاروں ارب روپے کے بجٹ پیش کیے جاتے ہیں تو پھر سندھ کے عوام کی زندگی میں بنیادی بہتری کیوں نہیں آتی انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ، اقتصادی راہداری، انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، صنعتی زونز اور ساحلی پٹی کی ترقی سے متعلق اعلانات کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں اور حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ ان منصوبوں کا فائدہ سندھ کے عوام کو ملے گا یا بیرونی سرمایہ کاروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور طاقتور کارپوریٹ حلقوں کو کیٹی بندر، کھارو چھان، گوراباری، میرپور ساکرو، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے ساحلی علاقے سندھ کی تاریخی، ثقافتی اور معاشی شناخت کا حصہ ہیں۔ ماضی میں بھی ساحلی پٹی، جزیروں اور زرعی زمینوں پر قبضے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں جن کی سندھ کے عوام اور قوم پرست قوتوں نے مزاحمت کی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ کیٹی بندر اور ساحلی پٹی سے متعلق نئے منصوبے بھی مقامی لوگوں کو ان کی زمینوں اور وسائل سے محروم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی لاجسٹک حب، بندرگاہوں اور صنعتی زونز کے خواب دکھا رہی ہے، لیکن یہ واضح کرنے سے قاصر ہے کہ مقامی ماہی گیروں، کسانوں، مویشی پال حضرات اور ساحلی آبادیوں کی زمینوں، روزگار اور وسائل کا تحفظ کس طرح کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سندھ ترقی پسند پارٹی واضح کرتی ہے کہ ساحلی پٹی اور سندھ کے وسائل سے متعلق کسی بھی منصوبے کی حمایت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مقامی لوگوں کی زمینوں، رہائشی حقوق، ماہی گیروں کے روزگار، سمندری وسائل پر ان کے حق اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے واضح قانونی ضمانتیں فراہم نہ کی جائیں، انہوں نے کہا کہ سندھ اس وقت شدید آبی قلت کا شکار ہے اور خود سندھ حکومت اعتراف کر رہی ہے کہ پنجاب کے مقابلے میں سندھ کو زیادہ پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ارسا کی ناانصافیاں، وفاقی اداروں کی امتیازی پالیسیاں اور دریائے سندھ پر مسلسل ڈاکے سندھ کی زراعت، معیشت اور لاکھوں کسانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دریائے سندھ پر ڈاکہ سندھ کے وجود پر ڈاکہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر انتخاب میں سندھ کے حقوق، وسائل اور خود مختاری کے نعرے لگاتی رہی ہے، لیکن عملی طور پر سندھ کے پانی، زمین، جزیروں، ساحلی پٹی اور قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں وفاقی اور کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ آج پیپلز پارٹی سندھ کے حقوق کی محافظ نہیں بلکہ سندھ کے وسائل، زمینوں اور ساحلی پٹی کی سودے باز جماعت بن چکی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کا باشعور عوام اب محض اعلانات، سنگ بنیادوں اور خوبصورت خوابوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں اور عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ سترہ سالہ مسلسل حکمرانی کے باوجود بے روزگاری، غربت، بدامنی، پانی کی قلت، تباہ حال تعلیمی نظام اور صحت کے مسائل کیوں برقرار ہیں، ڈاکٹر قادر مگسی نے واضح کیا کہ سندھ ترقی پسند پارٹی دریائے سندھ، این ایف سی ایوارڈ، سندھ کی زمینوں، ساحلی پٹی، جزیروں، پانی اور قدرتی وسائل پر کسی بھی قسم کی سودے بازی قبول نہیں کرے گی اور سندھ کے قومی، معاشی اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد مزید تیز کرے گی۔ سندھ دشمن پالیسیوں، منصوبوں اور فیصلوں کے خلاف ہر سطح پر بھرپور عوامی جدوجہد کے ذریعے مزاحمت کی جائے گی۔مزید قومی خبریں
-
پنجاب میں تھیٹر کی بحالی وزیراعلی مریم نواز کا مشن ہے‘ عظمی بخاری
-
غیر قانونی ٹرانسپلانٹ،رشتہ دار گردہ دینے کو تیار نہیں ہوتے، مریض مررہا ہو تو کیا کری سپریم کورٹ
-
عزت و شہرت کی خواہش ریاکاری کا بڑا دروازہ ہے ، علامہ الیاس قادری
-
بچوں کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حقوق اور انصاف کا معاملہ ہے، آصفہ بھٹو زرداری
-
عوام کو سہولیات کی دہلیز پر فراہمی انتہائی ضروری ہے، گورنر خیبرپختونخوا
-
وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق سے چینی وفد کی ملاقات
-
قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق ریلوے کو جدید اور منافع بخش ادارہ بنا رہے ہیں، حنیف عباسی
-
وزیر تجارت سے ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کی ملاقات،باہمی تجارت و سرمایہ کاری اور عوامی روابط بڑھانے کے عزم کا اعادہ
-
پاکستان کی مضبوطی، استحکام و خوشحالی ہی بانی کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان
-
روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعہ سمندرپاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 13.90ارب ڈالرسے تجاوزکرگیا
-
انصاف تک رسائی تیز، عدالتی نظام کو موثر اور جدید بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گے۔چیف جسٹس
-
وفاقی وزیر توانائی سے پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی قیادت میں وفد کی ملاقات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.