پاسکو سکینڈل حکومتی ناکامی کا ناقابل تردید ثبوت، کسان اور عوام دونوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے. پی ٹی آئی کسان ونگ

عوام کوبتایا جائے پاسکوکے ملکیتی گودام نجی شعبے کے حوالے کیوں کئے گئے ،پاسکو آڈٹ رپورٹ پرپی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کا رد عمل

Mian Nadeem میاں محمد ندیم اتوار 5 جولائی 2026 17:37

پاسکو سکینڈل حکومتی ناکامی کا ناقابل تردید ثبوت، کسان اور عوام دونوں ..
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 جولائی ۔2026 ) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاسکو سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کئے گئے انکشافات پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے.

(جاری ہے)

پاکستان تحریک انصاف کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے اتوار کوکسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کی جانب سے پاسکو آڈٹ رپورٹ پرپی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی آرگنائزر شیخ وقاص اکرم کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میںدئیے گئے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ اس رپورٹ نے پاکستان کے تمام عوام بالخصوص کسان کمیونٹی میں شدید غم وغصے کی لہر پیدا کر دی ہے .

انہوںنے کہا کہ کسان کمیونٹی اور پی ٹی آئی کسان ونگز کی مشترکہ رائے ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی سے آزاد فارم 47 کی حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے انہوںنے کہا کہ رپورٹ کے مطابق پاسکو کو ایک سال میں 20 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ 21 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ 257 ارب روپے سے زائد کی رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی گندم کی خرد برد، باردانہ کی غیر شفاف تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور انتظامی بے ضابطگیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاسکو کا بنیادی مقصد کسانوں کو تحفظ فراہم کرنا، گندم کی منڈی کو مستحکم رکھنا اور ملک کے غذائی ذخائر کو محفوظ بنانا تھا، مگر ناقص حکومتی پالیسوں نے اس قومی ادارے کو تباہ کر دیاہے اب حکومت ادارے کو ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جو مستقبل میں غذائی تحفظ کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا خالد نواز سدھرآئچ نے حکومت سے سوال کیاکہ گندم اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے والے پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے افراد یا اداروں کے حوالے کیوں کئے گئے اور اس کے پیچھے کیا منطق ہے.

انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ قومی اثاثوں کانجی استعمال کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے انہوں نے فلورملز مالکان کی جانب سے گندم کے ذخائر کی مبینہ سرکاری ضبطگی کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کے قانونی ذخائر کو طاقت کے ذریعے قبضے میں لیا جا رہا ہے تو یہ آزاد منڈی کے دعوو¿ں کی نفی اور کاروباری اعتماد کے لیے نقصان دہ ہے اس معاملے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں انہوں نے کہا کہ موجودہ گندم پالیسی نے کسان اور صارف دونوں کو نقصان پہنچایا ہے فصل کے وقت کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ چند ماہ بعد عوام کو آٹا اور گندم مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے.

انہوں نے کہا کہ اس سارے بندوبست کا فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوز اور مخصوص مفاداتی گروہوں کو پہنچایا جا رہا ہے پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں، گندم کی خرد برد، باردانہ سکینڈل اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے.