Live Updates

ترسیلات زر، ڈیفنس اور سروسز ایکسپورٹس پاکستان کی معیشت کو سہارا دے رہی ہیں،میاں زاہد حسین

پیر 6 جولائی 2026 18:34

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 جولائی2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم و آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ تشویشناک ہے، تاہم اسے امریکہ ایران جنگ کی وجہ سیعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے درآمدی بل میں اضافے کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی تا جون 26-2025 کے دوران پاکستان کا اشیائ کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.471 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 32.467 ارب ڈالر تھا، اس طرح تجارتی خسارے میں 21.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

(جاری ہے)

درآمدات 7.89 فیصد اضافے سے 69.597 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات 5.97 فیصد کمی کے بعد 30.126 ارب ڈالر رہ گئیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، خام مال اور صنعتی انپٹس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر انرجی اور خام مال کی قیمتوں میں کسی بھی جھٹکے کا فوری اثر تجارتی توازن پر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ نے ایندھن کی عالمی منڈی، شپنگ، توانائی کے تحفظ اور درآمدی لاگت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، جس کا اثر پاکستان کے مجموعی درآمدی بل پر بھی پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جون 2026 خاص طور پر مشکل مہینہ رہا، جس میں درآمدات بڑھ کر 6.767 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات صرف 2.239 ارب ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں ماہانہ تجارتی خسارہ 4.528 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

تاہم اس دباؤ کے باوجود حکومت نے بیرونی جھٹکوں کو بہتر انداز میں سنبھالا اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ میں گھبراہٹ کی صورتحال پیدا نہیں ہونے دی۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہیں اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے مقابلے میں معیشت کو اہم سہارا فراہم کر رہی ہیں۔ مضبوط ترسیلات زر زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے، روپے کو مستحکم رکھنے،کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے اور ہنگامی قرضوں کی ضرورت کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جولائی تا مئی 26-2025 کے دوران سروسز ایکسپورٹس میں 17.38 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سروسز خسارے میں 24.10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ٹی، فری لانسنگ، پروفیشنل سروسز اور ڈیجیٹل ایکسپورٹس پاکستان کے ادائیگی کے توازن کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ برآمدات میں کمی تشویش کا باعث ہے۔

ترسیلات زر اور سروسز ایکسپورٹس سے ملنے والا سہارا اہم ہے، مگر پاکستان پائیدار معاشی استحکام اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک گڈز ایکسپورٹ کو مستحکم بنیادوں پر بحال نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی وجوہات میں توانائی کی بلند قیمتیں، پیچیدہ ٹیکس نظام، ریفنڈز میں تاخیر، صنعتی مسابقت میں کمی، محدود ویلیو ایڈیشن، لاجسٹک لاگت میں اضافہ اور نئی منڈیوں تک ناکافی رسائی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات ہی معاشی استحکام کی اصل بنیاد ہیں۔میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ برآمدات کی بحالی کے لیے پاکستانی صنعتوں کو دوسرے ممالک کے برابر نرخوں پر توانائی فراہم کرے، ریفنڈز کی فوری ادائیگی، آسان ٹیکس نظام، بہتر لاجسٹکس فراہم کرے، جبکہ تاجر برادری مصنوعات میں تنوع اور غیر روایتی منڈیوں تک موثر رسائی حاصل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو انجینئرنگ گڈز، فوڈ پراڈکٹس، آئی ٹی سروسز، فارماسیوٹیکل، سرجیکل گڈز، اسپورٹس گڈز، معدنیات اور ویلیو ایڈڈ زراعت کی برآمدات بھی بڑھانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ خطرے کی گھنٹی ہے مگر حکومت نے امریکہ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں کے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو مؤثر انداز میں سنبھالا ہے، تاہم پائیدار معاشی استحکام صرف ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات