چین اور پاکستان کی دوستی ناقابلِ شکست شراکت داری بن چکی ہے، فینگ دہنگ

تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور صنعتی تعاون کے ذریعے ہی ممالک عالمی معیشت میں اپنی جگہ مستحکم کر سکتے ہیں،مقررین

جمعہ 10 جولائی 2026 14:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جولائی2026ء) قائم مقام قونصل جنرل چین فینگ دہنگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو کر ناقابلِ شکست تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، جو باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے۔چائنا قونصلیٹ کراچی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں اور چین و پاکستان کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فینگ دہنگ نے کہا کہ جیاشنگ کی نان ہو جھیل میں موجود تاریخی "ریڈ بوٹ" سے شروع ہونے والا سفر آج جدید چین کی ترقی کا عظیم استعارہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چین نے معاشی ترقی، سماجی استحکام، غربت کے خاتمے اور جدیدیت کے میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ چین آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت، سب سے بڑا صنعتی ملک اور اشیائے تجارت کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جبکہ انسانی تاریخ میں غربت کے خلاف سب سے بڑی کامیاب مہم بھی چین نے ہی سرانجام دی۔

قائم مقام قونصل جنرل نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاکستان اور چین نے ہر عالمی و علاقائی تبدیلی کے باوجود باہمی اعتماد اور تعاون کی روایت برقرار رکھی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ میں ہمیشہ بھرپور تعاون کیا، جو دوطرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد ہے۔اس موقع پر اکنامک ڈپلومیسی فورم کے بانی صدر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں معاشی سفارت کاری قومی ترقی کا ناگزیر ستون بن چکی ہے۔

تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور صنعتی تعاون کے ذریعے ہی ممالک عالمی معیشت میں اپنی جگہ مستحکم کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکنامک ڈپلومیسی فورم کا قیام اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تاکہ سفارت کار، پالیسی ساز، کاروباری رہنما اور ماہرین ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پاکستان کی عالمی معاشی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے تجاویز مرتب کر سکیں۔

ڈاکٹر فاروق افضل نے کہا کہ چین کی ترقی کا ماڈل پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ اسٹریٹجک منصوبہ بندی، پالیسیوں میں تسلسل، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صنعتی جدیدکاری اور تکنیکی جدت چین کی کامیابی کے بنیادی عوامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک، شاہراہ قراقرم، توانائی، تعلیم، زراعت، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کا تعاون مثالی ہے، جبکہ مستقبل میں تجارت، ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، گرین ڈویلپمنٹ، فنی تربیت اور نجی شعبے کے اشتراک کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

سیمینار سے زبیر موتی والا، خالد منصور، ہما بقائی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں حکومت سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری سرمایہ کاری بہزاد امیر میمن، کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ریحان حنیف، ایتھوپیا کے اعزازی قونصل جنرل ابراہیم تواب، چیئرمین آباد حسن بخشی، مجید عزیز، عبداللہ ذکی، شمیم احمد فرپو، فضل کریم دادا بھائی سمیت کاروباری، سفارتی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔