Live Updates

پاکستان میں ماحولیاتی ٹیکس کی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے؟

DW ڈی ڈبلیو اتوار 12 جولائی 2026 12:40

پاکستان میں ماحولیاتی ٹیکس کی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 جولائی 2026ء) پاکستانی اب پیٹرول پر فی لیٹر پانچ روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کر رہے ہیں، جو ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے لیے مختص فنڈز میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

اعداد و شمار سے ہٹ کر اس پیش رفت نے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے۔

اگر شہری ماحول کے تحفظ کے نام پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں تو یہ رقم انہیں سیلاب، ہیٹ ویوز، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی سے جڑے دیگر خطرات سے بچانے کے لیے کس طرح استعمال ہوگی؟ مزید یہ کہ کیا ایسا کوئی مؤثر نظام موجود ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نام پر وصول کیا جانے والا ٹیکس صرف اسی مقصد پر خرچ ہو، یا پھر ایسی رقوم بھی حکومت کی عمومی آمدن کا حصہ بن جاتی ہیں؟

یہ بحث صرف پالیسی سازوں اور ماحولیاتی ماہرین تک محدود نہیں۔

(جاری ہے)

بہت سے پاکستانی کہتے ہیں کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی میں ماحول کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو محسوس کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کی فکر ستا رہی ہے کہ آنے والی نسلوں کو کیسا ماحول ورثے میں ملے گا۔

انہی میں سے ایک نوجوان فہد بشیر ہیں، جن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے بہت سے پہاڑی علاقوں میں اب وہ گھنے جنگلات دکھائی نہیں دیتے جن کے بارے میں وہ بچپن سے سنتے آئے تھے۔

ان کے بقول، "ہم نے ہمیشہ سنا کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں گھنے جنگلات ہوا کرتے تھے، مگر آج بہت سے پہاڑ تقریباً بنجر دکھائی دیتے ہیں۔ جنگلات صرف خوبصورتی ہی نہیں بڑھاتے بلکہ صاف فضا اور بہتر ماحول بھی فراہم کرتے ہیں۔"

اگرچہ فہد کا کہنا ہے کہ وہ پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ہر نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگلی نسل کے لیے بہتر ماحول چھوڑ کر جائے۔

ان کے مطابق ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ ملک کے قدرتی وسائل کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے پاکستان کو زیادہ بہتر اور رہنے کے قابل بنانے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔

حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ماحول کے تحفظ کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات زیادہ واضح ہونی چاہییں۔ ان کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے نام پر جمع ہونے والا ٹیکس صرف ماحول سے متعلق اقدامات پر ہی خرچ ہونا چاہیے، مگر ملک کے طرزِ حکمرانی میں اس حوالے سے مطلوبہ شفافیت دکھائی نہیں دیتی۔

ماحولیاتی امور کے ماہر نصیر میمن کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ شہریوں کو کلائمیٹ سپورٹ لیوی ادا کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حکومت واضح طور پر بتاتی بھی ہے یا نہیں کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوگی۔ ان کے مطابق جب کسی ٹیکس کو موسمیاتی تحفظ کے نام پر وصول کیا جائے تو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ حاصل ہونے والی رقم اسی مقصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

نصیر میمن کے بقول، "اس طرح کی لیوی کی اصل اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ ایک واضح منصوبہ بھی موجود ہو۔ حکومتیں اسے محض عمومی ٹیکس آمدن میں شامل نہیں کر سکتیں۔ شہریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کتنی رقم جمع ہوئی اور اسے کہاں خرچ کیا گیا۔"

ان کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کے مؤثر استعمال کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔

حکومت اس رقم کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی نظام، جنگلات کی بحالی، عوامی آگاہی مہمات، ماحول دوست تعلیمی انفراسٹرکچر، ہیٹ ویو سے نمٹنے کے منصوبوں، ریسکیو کی تیاریوں اور زیادہ درجہ حرارت والے علاقوں میں شجرکاری جیسے اقدامات پر خرچ کر سکتی ہے۔

نصیر میمن خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے مقامی اور عالمی، دونوں طرح کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔

ان کے مطابق اگرچہ عالمی عوامل پر پاکستان تنہا قابو نہیں پا سکتا، تاہم شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ کے ذریعے مقامی ماحول کو بہتر بنا کر درجہ حرارت میں کمی لائی جا سکتی ہے، مقامی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے اور ماحول سے متعلق بعض مسائل کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگلات کی مسلسل کٹائی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

کہی‍ں دیر نہ ہو جائے

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر ماحول کے تحفظ پر سرمایہ کاری میں تاخیر کی گئی تو آنے والے برسوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدید ہو جائیں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو پہلے ہی زیادہ شدت اور زیادہ تواتر کے ساتھ شدید موسمی حالات کا سامنا ہے۔

ماحولیاتی وکیل رافع عالم کا کہنا ہے کہ ماحول کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق لوگوں کی زندگیوں سے ہے۔

ان کے مطابق ملک میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اور ماحول کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل بحث صرف یہ نہیں کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے کتنی رقم مختص کی جا رہی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ سرکاری فنڈز مؤثر انداز میں خرچ ہو رہے ہیں یا نہیں۔

ماہرِ معیشت ندیم الحق کے مطابق ماحول کا تحفظ بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق اٹھنے والے سوالات دراصل پاکستان میں سرکاری اخراجات کے وسیع تر مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ندیم الحق کے بقول، "موسمیاتی بجٹ کے بارے میں بھی وہی خدشات ہیں جو حکومت کے دیگر محکموں کے بجٹ کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔ سرکاری وسائل اکثر عوام کو حقیقی فائدہ پہنچانے کے بجائے حکومتی ڈھانچے کے اخراجات پورے کرنے پر صرف ہو جاتے ہیں۔" ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان کو ماحول کے تحفظ پر سرمایہ کاری جاری رکھنی چاہیے، تاہم صرف ملکی سطح پر کیے جانے والے اخراجات عالمی موسمیاتی تبدیلی کے وسیع اثرات سے ملک کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتے۔

ادارت: جاوید اختر

Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات