صنعتی مسائل کا حل اولین ترجیح، گورنر سندھ کی سائٹ کراچی کے صنعتکاروں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی

سائٹ کی ترقیاتی اسکیموں کی نگرانی صنعتکار کریں، گورنر سندھ نہال پاشمی کی تجویز، ماہانہ رابطہ اجلاس بحال کرنے کا اعلان

بدھ 15 جولائی 2026 22:05

راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جولائی2026ء) گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے سائٹ ایریا کراچی کے صنعتکاروں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون اور مکمل حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتی شعبے کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کراچی کی تاجر و صنعتکار برادری کو ملکی صنعت کا پہیہ رواں رکھنے اور فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

یہ بات انہوں نے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے دورے کے موقع پر صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر گورنر ہاؤس کے اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔گورنر سندھ نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا خواب ایک مضبوط اور صنعت پر مبنی پاکستان تھا جس کی تعبیر صنعتی ترقی سے ہی ممکن ہے۔

(جاری ہے)

کراچی کا سائٹ صنعتی ایریا ملک کا قدیم ترین صنعتی زون ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا صنعتی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہے جس نے دنیا بھر میں پاکستان کی صنعتی شناخت قائم کی۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ستر کی دہائی میں پاکستان کی معیشت اس قدر مضبوط تھی کہ ملک نے جرمنی کو بھی قرض فراہم کیا تھا جو اس وقت کی معاشی طاقت کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف کا تعلق ایک صنعتی خاندان سے ہے اور وہ ہمیشہ صنعتوں کے فروغ کے ذریعے ملکی خوشحالی کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکومتوں کے دوران صنعتی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے جبکہ موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف بھی اسی وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

انہوں نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ نئی مصنوعات متعارف کرائیں، برآمدات میں اضافہ کریں اور عالمی مارکیٹوں میں پاکستان کا حصہ مزید بڑھائیں۔ انہوں نے سائٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی میں بھی ایسوسی ایشن کو فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔گورنر سندھ نے صنعتکاروں کے مسائل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سائٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی گیٹس نصب کیے جانے چاہیے۔

انہوں نے گورنر ہاؤس میں صنعتکاروں کے ساتھ ماہانہ رابطہ اجلاس دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تاکہ مسائل کا بروقت جائزہ لے کر ان کا حل یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ سائٹ میں ریلوے ٹریک کے نیچے پانی کی لائنوں کی تنصیب کے معاملے کے حل کے لیے پاکستان ریلوے کے حکام کے ساتھ گورنر ہاؤس میں خصوصی اجلاس طلب کیا جائے گا۔

قبل ازیں صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے گورنر سندھ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سائٹ کی صنعتیں اس وقت گیس کی شدید قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، بجلی کے زائد نرخوں اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں جس سے صنعتی سرگرمیاں اور ملکی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائٹ لمیٹڈ کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے ایسوسی ایشن نے سائٹ ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے قیام کی تجویز دی ہے جسے کورنگی، لانڈھی، فیڈرل بی ایریا اور نارتھ کراچی صنعتی علاقوں کے ماڈل پر حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے سپرد کیا جائے تاکہ صنعتی انفراسٹرکچر اور انتظامی امور کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

انہوں نے کراچی کو قومی وسائل میں اس کا جائز اور منصفانہ حصہ دینے کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے شہر کے صنعتی انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات پر خصوصی توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ محمد زبیر موتی والا نے حکومت پر زور دیا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے صنعتوں کو ہر قسم کی رکاوٹ سے پاک کاروباری ماحول فراہم کیا جائے جبکہ بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی سہولتوں کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مساوی رکھے جائیں تاکہ پاکستانی صنعت عالمی مارکیٹوں میں مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی صنعت دوست پالیسیوں کے نتیجے میں ٹیکسٹائل برآمدات 52 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جبکہ پاکستان بھی مناسب پالیسیوں کے ذریعے اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس کے شعبے میں اصل مسئلہ صنعتی صارفین نہیں بلکہ گھریلو شعبہ ہے جہاں گیس چوری اور لائن لاسز 47 فیصد تک پہنچ چکے ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں یہ شرح صرف 2 فیصد ہے۔

کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کرنے کے بعد ایس ایس جی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کی مالی صورتحال بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔زبیر موتی والا نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پناہ تجارتی امکانات کے باوجود چین کو پاکستان کی برآمدات انتہائی کم ہیں۔ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ پاک چین ایکسپورٹ پروموشن باڈی قائم کی جائے جو خصوصی حکمت عملی کے تحت چین کی مارکیٹوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور برآمدات بڑھانے کے لیے کام کرے۔

اس موقع پر سائٹ ایسوسی ایشن کے سرپرست سلیم پاریکھ نے گورنر سندھ کو سائٹ لمیٹڈ کے تحت جاری پی ایس ڈی پی منصوبے اور سائٹ ایسوسی ایشن کے گرانٹ اِن ایڈ منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ڈی پی منصوبے میں ایسوسی ایشن کا کردار صرف کمیٹی میں نمائندگی تک محدود ہے تاہم اس منصوبے کے تحت سائٹ ایریا میں 28 سڑکوں اور نالوںکی تعمیر جاری ہے جو آئندہ دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

سائٹ کی اندرونی سڑکوں اور گلیوں کی بحالی ایسوسی ایشن کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے بتایا کہ دو ارب روپے کے نئے گرانٹ اِن ایڈ منصوبے پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے جس پر عمل درآمد کی ذمہ داری سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کو سونپی گئی ہے۔سابق صدر سائٹ ایسوسی ایشن جاوید بلوانی نے کراچی میں پرال دفتر کے قیام اور ایف بی آر افسران کی مستقل بنیادوں پر کراچی میں تعیناتی کے فیصلے کو وزیراعظم پاکستان کا بروقت اور خوش آئند اقدام قرار دیا۔

انہوں نے گورنر سندھ سے درخواست کی کہ وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کو گورنر ہاؤس میں صنعتکاروں کے ساتھ خصوصی اجلاس کے لیے مدعو کیا جائے تاکہ توانائی کے شعبے سے متعلق مسائل کا مؤثر حل تلاش کیا جا سکے۔اجلاس میں سائٹ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی اور سینئر ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی جن میں سینئر نائب صدر احمد ذوالفقار چوہدری، نائب صدر محمد طاہر گوریجا،یونس بشیر، مجید عزیز، اسد نثار، احمد عظیم علوی، سلیمان چاؤلہ، عبد الہادی، عبدالرشید، محمد کامران عربی، محمد عارف لاکھانی، انور عزیز، عبدالقادر بلوانی، خالد ریاض، محمد فرحان اشرفی، محمد ریاض ڈھیڈی، طارق رحمان، امان نسیم، جنید الرحمان اور محمد کامران لاکھانی سمیت دیگر نمایاں صنعتکار شامل تھے۔