Live Updates

’خدا کی قسم میرے بچے ایک ٹائم کھاتے ہیں، دو ٹائم نہیں کھاتے‘

بیگم خالی دیگچی میں پانی چڑھا دیتی ہے، بچے اسی انتظار میں سوجاتے ہیں تو گھر جاتا ہوں، خود تین تین دن بھوکے رہے؛ لاہور میں رکشہ ڈرائیور کی صحافی کے ساتھ گفتگو

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 25 جولائی 2026 15:14

’خدا کی قسم میرے بچے ایک ٹائم کھاتے ہیں، دو ٹائم نہیں کھاتے‘
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جولائی2026ء) لاہور میں ایک غریب رکشہ ڈرائیور نے صحافی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اپنے گھر کے الم ناک حالات بیان کرتے ہوئے انتہائی دکھی لہجے میں بتایا کہ خدا کی قسم میرے بچے ایک ٹائم کھانا کھاتے ہیں اور دوسرے ٹائم کا فاقہ ہوتا ہے، بیگم بچوں کو بہلانے کے لیے چولہے پر خالی دیگچی میں پانی چڑھا دیتی ہے اور معصوم بچے اسی انتظار میں سو جاتے ہیں کہ کھانا بن رہا ہے، پھر میں رات کو گھر جاتا ہوں، میں خود تین تین دن بھوکا رہتا ہوں، کبھی بحریہ دستر خوان تو کبھی داتا صاحب کے لنگر سے کھانا لا کر بچوں کا پیٹ پالتا ہوں، اس طرح بمشکل گزر بسر ہو رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور کے مرکز شملہ پہاڑی چوک پر عوامی رکشہ یونین کے زیر اہتمام پٹرولیم مصنوعات کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں، کمر توڑ مہنگائی اور پولیس کے مبینہ ناروا رویے کے خلاف لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، اس مظاہرے میں شہر بھر سے آئے ہوئے رکشہ ڈرائیوروں نے شرکت کی اور حکومت و انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی، مظاہرین نے معاشی بدحالی اور نچلے طبقے پر بڑھتے ہوئے شدید مالی دباؤ پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ شملہ پہاڑی چوک پر جمع مظاہرین نے اے ایس پی ٹاؤن شپ کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے ان سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ٹھوکر نیاز بیگ کے علاقے میں بااثر بدمعاشوں نے ایک بے گناہ رکشہ ڈرائیور کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، لیکن مقامی پولیس نے ظالموں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے الٹا مظلوم اور متاثرہ ڈرائیور ہی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جو کہ سراسر ناانصافی اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے، پولیس غریب محنت کشوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان کا استحصال کر رہی ہے۔

مظاہرے میں شریک رکشہ ڈرائیوروں کا کہنا تھا کہ پٹرول، ایل پی جی اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل اور بے تحاشا بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث اب ان کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی ناممکن ہو چکا ہے، دن بھر سخت محنت اور مشقت کے بعد جو دیہاڑی بنتی ہے، وہ پٹرول کے خرچے اور رکشے کے کرائے میں ہی نکل جاتی ہے اور گھر کے لیے کچھ نہیں بچتا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رکشہ ڈرائیوروں اور محنت کش طبقے کو آٹا، دال، چینی اور دیگر ضروری اشیاء ارزاں نرخوں اور خصوصی سبسڈائزڈ ریٹ پر فراہم کی جائیں تا کہ وہ فاقہ کشی سے بچ سکیں۔

عوامی رکشہ یونین کے رہنماؤ‌ں اور مظاہرین نے حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے، جھوٹا مقدمہ واپس نہ لیا گیا اور متاثرہ ڈرائیور کو انصاف فراہم نہ ہوا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار بڑھا دیں گے، اگلی حکمت عملی کے تحت تمام رکشہ ڈرائیورز ڈی آئی جی آفس اور سی سی پی او آفس لاہور کے باہر خوفناک احتجاجی دھرنا دیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتطامیہ پر عائد ہوگی۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات