بارش کے پہلے قطرے پر کراچی کے 200 فیڈر ٹرپ کر گئے، شہری اندھیروں میں ڈوب گئے، منعم ظفر خان

کے الیکٹرک، اربن فلڈنگ، پانی، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کو شدید تنقید، 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

ہفتہ 25 جولائی 2026 17:30

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2026ء) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ بارش کا پہلا قطرہ گرتے ہی کراچی کے 200 فیڈر ٹرپ کر گئے اور پورا شہر اندھیروں میں ڈوب گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کراچی کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے لیے کی گئی تھی مگر نتائج اس کے برعکس نکلے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے ملی بھگت سے کے الیکٹرک کو صرف 15 ارب روپے میں فروخت کیا، جبکہ حکومت نے کمپنی کے لیے 163 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی، اس کے باوجود نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور نہ ہی ترسیلی نظام بہتر بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بارش ہوتے ہی کے الیکٹرک کا نظام جواب دے جاتا ہے، جبکہ شہری بھاری بھرکم بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

(جاری ہے)

منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی نیپرا اور عدالتوں میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی تک جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں کے آغاز کے ساتھ کراچی میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ موجود ہے، مگر نالوں کی صفائی بروقت نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ صفائی کے لیے 53 کروڑ روپے مختص کیے گئے لیکن نتائج نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے میئر کراچی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن چیئرمینز اور متعلقہ اداروں کو اعتماد میں نہ لینے کے باعث بدانتظامی پیدا ہوئی۔انہوں نے مواچھ گوٹھ میں سات سالہ بچے کی گٹر میں گر کر ہلاکت کو حکومتی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھی 19 افراد کھلے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

منعم ظفر خان نے ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کی تعداد اور اموات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے فوری جواب طلب کیا۔ انہوں نے پرانی سرنجوں کے استعمال کو انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی نصف آبادی آج بھی پانی کی قلت کا شکار ہے، کے فور منصوبے میں تاخیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر وفاق اور سندھ حکومت دونوں ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے یونیورسٹی روڈ، نیپا تا حسن اسکوائر پائپ لائن اور کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر میں تاخیر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔منعم ظفر خان نے کہا کہ احتجاج کرنا عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے اور 7 اگست کو پورے پاکستان میں مرکزی شاہراہوں پر عوامی احتجاج کیا جائے گا، جس سے حکومت کو عوام کی آواز سننا پڑے گی۔