سابقہ فاٹا: محرومی سے خوشحالی کی طرف گامزن
اتوار 26 جولائی 2026 22:22
(جاری ہے)
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد اسکول، صحت کی سہولیات، مارکیٹیں اور سڑکیں تباہ ہوئیں، کاروبار ٹھپ ہو گئے اور ہزاروں خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ امن و امان کی بحالی اور مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا کے ساتھ آئینی انضمام کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس محروم رہنے والے علاقے کو قومی معاشی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ترقیاتی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت کے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور خیبر پختونخوا کے سالانہ ڈیولپمنٹ پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت نئی سرمایہ کاری میں ضم شدہ اضلاع میں سڑکوں، پلوں، اسکولوں، اسپتالوں، پینے کے پانی کی اسکیموں، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی اور قبائلیوں کے لیے ذریعہ معاش کے مواقع کی بحالی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وفاقی پی ایس ڈی پی 27۔ 2026 میں صوبوں اور خصوصی علاقوں کےلیے 233.39 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو ملک بھر میں جامع اور مساوی ترقی کےلیے حکومتِ پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ صوبائی منصوبوں کو 88.29 ارب روپے (37.8فیصد )، ضم اضلاع کو 56.08 ارب روپے (24.0فیصد) اور خصوصی علاقوں یعنی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو پی ایس ڈی پی 27۔2026 میں 89.02 ارب روپے (38.1فیصد) کا حصہ ملتا ہے۔شمالی وزیرستان میں خرم تنگی ڈیم کی تعمیراتی کام میں توسیع اور جنوبی وزیرستان میں 17.4 میگاواٹ کے گومل زام ڈیم کی تکمیل کے علاوہ وفاقی حکومت نے 309.6 ارب روپے کی لاگت سے مہمند ڈیم پر کام تیز کر دیا ہے جس کی صلاحیت 800 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ 1.293 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی ہے۔ سابقہ فاٹا کی بحالی اور انضمام کے ترقیاتی پروگراموں کے حصے کے طور پر جنوبی وزیرستان میں مکمل ہونے والے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں 17.4 میگاواٹ کا گومل زام ڈیم، مکین مارکیٹ کمپلیکس اور شیخة فاطمہ بنت مبارک اسپتال شامل ہیں۔ یہ حکمتِ عملی پر مبنی سرمایہ کاری انفراسٹرکچر کی ترقی میں تیزی لائے گی، عوامی خدمات کو بہتر بنائے گی، علاقائی کنیکٹیویٹی کو مضبوط کرے گی اور پورے پاکستان میں متوازن سماجی و معاشی ترقی کو فروغ دے گی۔ حکام کے مطابق ان اہم اقدامات کا مقصد نہ صرف عوامی خدمات کو بہتر بنانا ہے بلکہ علاقائی تفاوت کو کم کرنا اور مقامی برادریوں کے لیے پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔ ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ انضمام قبائلی اضلاع کے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ انہوں نے قومی خبر رساں ادارے "اے پی پی" کو بتایا کہ آئینی انضمام محض ایک انتظامی مشق نہیں تھی بلکہ اس نے پولسنگ، عدالتی اداروں اور عوامی خدمات کی توسع کےلیے فریم ورک تیار کیا جبکہ سابقہ فاٹا میں تیز تر سماجی و معاشی ترقی کے دروازے کھولے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں انضمام نے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے خاص طور پر اس کے انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں، تعلیم، زراعت اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی ترقی کے لیے تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کہا کہ تھانے قائم کیے گئے اور عدالتی نظام میں توسیع کی گئی، اس کے علاوہ قلعے تعمیر کیے گئے اور افغانستان سے ناپسندیدہ عناصر کی آمد کو روکنے کے لیے مغربی سرحد پر باڑ لگائی گئی۔ بہتر روڈ نیٹ ورکس، پبلک انفراسٹرکچر اور بارڈر مینجمنٹ کی مضبوطی نے کنیکٹیویٹی کو بڑھایا ہے اور سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ تاہم ان علاقوں کے عوام کے لیے ترقی کا اندازہ اعداد و شمار کے بجائے روزمرہ کے تجربات سے لگایا جاتا ہے۔ جن دیہاتوں میں تباہ شدہ اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے، وہاں کے بچے اب میلوں دور کے سکولوں میں جانے کے بجائے اپنے سکولوں کے کلاس رومز کی طرف جاتے ہیں۔وہ کسان جو کبھی اپنی پیداوار کو لے جانے کے لیے مشقت کرتے تھے اب سڑکوں کی بہتر رسائی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ صحت کی نئی سہولیات بنیادی علاج کےلیے مریضوں کی بڑے شہروں تک سفر کی مسافت کم کر رہی ہیں۔پشاور یونیورسٹی میں ڈائریکٹر کانفلیکٹ اینڈ اسٹریٹجک اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد کا ماننا تھا کہ غربت اور بے روزگاری اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹ کر امن کی کوششوں کو مضبوط اور سابقہ فاٹا میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امن صرف اسی وقت پائیدار ہوتا ہے جب قبائلی عوام کے پاس باوقار ملازمتیں ہوں۔ سڑکیں اور عمارتیں اہم ہیں، لیکن پائیدار ترقی کےلیے اصل چیز تعلیم، صنعتیں، پیشہ ورانہ تربیت اور نجی سرمایہ کاری ہے، خاص طور پر ان ضم شدہ اضلاع میں جہاں لوگ دہشت گردی کے ناسور سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کا داخلہ، تحصیل سطح پر پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز کا قیام، انفراسٹرکچر کے منصوبے اور چھوٹے کاروباروں کی معاونت سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور روزگار کے لیے حوصلہ افزائی میں مدد ملے گی۔ قبائلی پٹی میں زراعت اور مال مویشی مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں جہاں حکومتی اقدامات جدید فارمنگ کی تکنیکوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ ترقیاتی اسکیمیں، خاص طور پر جو آبپاشی، لائیو اسٹاک کی بہتری اور جنگلات کے تحفظ میں مکمل ہوئی ہیں، کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور گھریلو آمدنی کو بہتر بنانے میں مدد کر رہی ہیں۔ گرین گروتھ پراجیکٹس اور لائیو اسٹاک کی ترقی کی اسکیموں نے کئی اضلاع میں موسمی روزگار بھی پیدا کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے چیف کنزرویٹر آف فارسٹس احمد جلیل نے کہا کہ مون سون کے درخت لگانے کے دوران سابقہ فاٹا میں زیادہ سے زیادہ رقبے کو جنگلات کے احاطے میں لانے کے لیے شجرکاری کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی پاکستان کے لیے 1.4 ملین (14 لاکھ) پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے تحت سابقہ فاٹا میں جہاں وسیع زمین دستیاب ہے، زیادہ سے زیادہ پودے لگائے جائیں گے۔یہ اقدام ہزاروں سبز ملازمتیں قبائلی نوجوانوں کو فراہم کرنے کے علاوہ اس علاقے کو سرسبز و شاداب بنانے میں مدد کرے گا۔تعلیمی ماہرین نے پرائمری اسکولوں کو طویل مدتی امن اور مالی بااختیاری کی بنیاد قرار دیا۔ خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم میں سینئر پلاننگ آفیسر شہاب خان نے کہا کہ تعلیمی انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنا، تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، ذہین طلبہ کو وظائف دینا اور اسکول سے باہر بچوں کو اسکولوں کے نیٹ میں لانا سابقہ فاٹا میں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسکولوں میں فرنیچر کو مضبوط بنانے اور بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ داخلوں میں اضافہ کیا جا سکے، خاص طور پر قبائلی پٹی میں لڑکیوں کے لیے۔ اسکول واپس آنے والا ہر بچہ دائمی امن اور معاشی استحکام میں سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستحق خاندانوں کے لیے اسکالرشپ پروگرام اور مالی امداد مزید طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے قابل بنا رہی ہے جبکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت میں سرمایہ کاری نوجوانوں کو مارکیٹ کے قابلِ قدر ہنر سے آراستہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کرم اور اورکزئی اضلاع میں 100 ارلی چائلڈ ہُڈ ایجوکیشن مراکز کے قیام کے علاوہ، اگلے پانچ سالوں میں جی پی ای کی فنڈنگ سے 1600 ای سی ای مراکز قائم کیے جائیں گے جبکہ کے پی ۔ ایچ آئی سی پی کے ذریعے 100 ای سی ای رومز قائم کیے جائیں گے جن کے تحت 250 پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں۔مزید اہم خبریں
-
جرمنی: اسلامسٹ دہشت گردانہ حملے کے بعد سیاسی بحث میں شدت
-
ریاست فیصلہ کرئے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا نون لیگ کا مفاد؟‘پولنگ اسٹیشن پر حملے ہوں،انٹرنیٹ بند ہو تو یہ آزادنہیں مقبوضہ کشمیر لگے گا.بلاول بھٹو
-
دریائے سندھ میں کالا باغ، تونسہ اور گڈو ‘راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب
-
مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ 29 جولائی سے 5 اگست تک متوقع، اربن فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈ کی وارننگ
-
’پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 50 سال پہلے کھڑا تھا‘
-
اداکارہ مومنہ اقبال ہراسانی کیس: این سی سی آئی اے نے نون لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو ملزم قرار دے دیا
-
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں مزید تنزلی ، دنیا کا چوتھا کمزور ترین پاسپورٹ قرار
-
ایلون مسک نے نئی سروس لانچ کردی
-
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے آذربائیجان کے سفیر خزر فرہادوف کی الوداعی ملاقات،دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
-
ہیپاٹائٹس سی کوئی معمولی طبی مسئلہ نہیں ،پاکستان کیلئے ایک قومی ایمرجنسی کی حیثیت رکھتا ہے،وزیر صحت مصطفی کمال
-
وزیر ریلوے سے مریم اورنگزیب کی ملاقات ،جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
-
شہباز شریف کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.